پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پانامالیکس کیس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟،اعتزاز احسن نے بڑی پیش گوئی کردی

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اورسینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو اتنی آسانی سے سزا نہیں مل سکتی لیکن کلین چٹ بھی نہیں ملے گی‘ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی صفائی میں ایک دستاویز بھی پیش نہیں کی‘ عدالت نے بہت نرم ہاتھ رکھا ہے ‘ عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ وزیر اعظم کو طلب کرتی ہے ‘

پانامہ کیس کے فیصلے میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ‘ اس سطح پر کمیشن بنانا معاملے کوطول دینے کے مترادف ہو گا ‘ نواز شریف کے بزنس کو وائٹ قرار دینے سے انارکی آ جائے گی۔ سپریم کورٹ کو چاہیے پھر بیٹھے اور و زیر اعظم سے ریکارڈ طلب کرے ۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ پہلے روز آ جانا چاہیے تھا۔ پانامہ کیس کے فیصلے میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ۔ عدالت کا فیصلہ وزیر اعظم واز شریف پر نرم ہی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے خاندان نے بیرون ملک بیش بہا اثاثے تسلیم کر لئے ہیں۔ وزیر اعظم کے خاندان نے تمام اثاثوں کے ثبوت دئیے ہیں۔ نواز شریف کا صفائی کا موقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اعتراز احسن نے کہا کہ ا یک قطر یا امارات سے کوئی خط لے ک آ جائے تو سارا بزنس وائٹ نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف کے بزنس کو وائٹ قرار دینے سے انکار کی آ جائے گی۔ عدالت نے بہت نرم ہاتھ رکھا ہے۔ عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ وزیر اعظم کو طلب کرتی۔ وزیر اعظم کو طلب نہیں کیا گیا تو کم از کم ان سے تمام ریکارڈ طلب کیا جاتا۔

اگر وزیر اعظم ریکارڈ پیش نہ کرتے تو یوسف رضا گیلانی کی طرح توہین عدالت کی سزا دیدی جاتی۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے لئے 10 سال زائد المعیاد نظر ثانی کی درخواست کو منظور کیا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ماضی کی روایت سے ہٹ کر فیصلہ ہو گا۔ وزیر اعظم سے دستاویزات طلب نہ کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے پاس آپشن محدود ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی صفائی میں بالکل دستاویز بھی پیش نہیں کی۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کو اتنی آسانی سے سزا نہیں مل سکتی لیکن کلین چٹ بھی نہیں ملے گی۔ اس سطح پر کمیشن بنانا معاملے کو طول دینے کے مترادف ہوگا۔ سپریم کور ٹ کو چاہیے پھر بیٹھے ا ور و زیر اعظم سے ریکارڈ طلب کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…