جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

’’توہین رسالت معاملے میں فیس بک بند کرنے کا فیصلہ ‘‘

datetime 13  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کوئی دو رائے نہیں کہ حرمت رسول ﷺ پر ہماری جان بھی قربان ۔ آقا کریم ﷺ کی عزت و حرمت پر کوئی بات کرے ہمیں بالکل گوارا نہیں ۔ پورا پاکستان اس معاملے پر یکجا ہے ۔ اس حوالے سے جسٹس شوکت عزیز کے اقدامات کو بے حد سراہا جا رہا ہے ۔ نجی ٹی وی چینل پر ڈاکٹر شاہد مسعود کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ توہین رسالت پر ایک لمبے عرصے بعد اچانک معاملہ اٹھایا جانا ایک اشارہ ہے ۔

انہوں نےکہا کہ اس معاملے میں کچھ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ حکومت اتنا عرصہ خاموش کیوں رہی ؟ آخر اس کے پیچھے وجہ کیا تھی ؟ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ حکومت نے توہین رسالتﷺ کے مرتکب پیجز کو بند کرنے کی آڑ میں سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ توہین رسالتﷺ کا معاملہ اٹھایا گیا تو حکومت نے خود اس معاملے کو خاموشی سے جانے دیا جبکہ حکومتی وزرا نے بھی اس پر کوئی بیان نہیں دیا۔بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایکشن لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی کے ڈھائی سے تین کروڑ افراد فیس بُک استعمال کر رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ سوشل میڈیا بین کرنےکی آڑ میں حکومت کا اپنا مفاد ہے ۔ توہین آمیز فیس بک پیجز خود بنائے گئے اور انہیں خاموشی سے چلنے دیا گیا ۔پھر ایک لائحہ عمل کے فیس بک بند کرنے کے خلاف معاشرے میں ایک ہیجان برپا کیا گیا تاکہ فیس بک جو اس وقت خبر رسانی کا سب سے تیز ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے اسے پاکستان میں بلاک کیا جائے جس سے حکمران طبقے کا کچا چٹھا کھل کر عوام کے سامنے نہ آنے پائے ۔ شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ اس بات کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو توہین رسالت کے پیجز چلتے رہے مگر حکومتی کسی ایک وزیر کا بیان بھی سامنے نہیں آیا ۔ کوئی ایک لفظ تک نہ بولا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…