پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’توہین رسالت معاملے میں فیس بک بند کرنے کا فیصلہ ‘‘

datetime 13  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کوئی دو رائے نہیں کہ حرمت رسول ﷺ پر ہماری جان بھی قربان ۔ آقا کریم ﷺ کی عزت و حرمت پر کوئی بات کرے ہمیں بالکل گوارا نہیں ۔ پورا پاکستان اس معاملے پر یکجا ہے ۔ اس حوالے سے جسٹس شوکت عزیز کے اقدامات کو بے حد سراہا جا رہا ہے ۔ نجی ٹی وی چینل پر ڈاکٹر شاہد مسعود کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ توہین رسالت پر ایک لمبے عرصے بعد اچانک معاملہ اٹھایا جانا ایک اشارہ ہے ۔

انہوں نےکہا کہ اس معاملے میں کچھ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ حکومت اتنا عرصہ خاموش کیوں رہی ؟ آخر اس کے پیچھے وجہ کیا تھی ؟ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ حکومت نے توہین رسالتﷺ کے مرتکب پیجز کو بند کرنے کی آڑ میں سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ توہین رسالتﷺ کا معاملہ اٹھایا گیا تو حکومت نے خود اس معاملے کو خاموشی سے جانے دیا جبکہ حکومتی وزرا نے بھی اس پر کوئی بیان نہیں دیا۔بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایکشن لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی کے ڈھائی سے تین کروڑ افراد فیس بُک استعمال کر رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ سوشل میڈیا بین کرنےکی آڑ میں حکومت کا اپنا مفاد ہے ۔ توہین آمیز فیس بک پیجز خود بنائے گئے اور انہیں خاموشی سے چلنے دیا گیا ۔پھر ایک لائحہ عمل کے فیس بک بند کرنے کے خلاف معاشرے میں ایک ہیجان برپا کیا گیا تاکہ فیس بک جو اس وقت خبر رسانی کا سب سے تیز ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے اسے پاکستان میں بلاک کیا جائے جس سے حکمران طبقے کا کچا چٹھا کھل کر عوام کے سامنے نہ آنے پائے ۔ شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ اس بات کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو توہین رسالت کے پیجز چلتے رہے مگر حکومتی کسی ایک وزیر کا بیان بھی سامنے نہیں آیا ۔ کوئی ایک لفظ تک نہ بولا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…