پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کرپشن کرنیوالے سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کو اب کیا سزاہوگی؟تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ فیصلہ سنادیا

datetime 6  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )پارلیمانی جماعتیں بدعنوانی کے مقدمات میں مجرمان کی تاحیات نااہلی پر متفق ہوگئیں ،لوٹی گئی دولت کی رضاکارانہ واپسی کی شق کو برقرار رکھا گیا ،کرپشن ثابت ہونے پر ملزم کو کم سے کم 7اور زیادہ 14سال کی سزا سنائی جاسکے گی۔ یہ اتفاق رائے پیر کو وفاقی وزیر زاہد حامد کی زیرصدارت پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قوانین کے اجلاس میں ہوا ۔

احتساب کمیٹی دونوں ایوانوں کی پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔کمیٹی اجلاس میں قومی احتساب کمیشن کی شقوں پر غور کیا گیا،احتساب قوانین کے مجوزہ مسودے کی شق 19,20اور 21 کی کمیٹی نے متفقہ منظوری دے دی ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرقانون و انصاف زاہد حامد نے کہا کہ کرپشن کی تشریح،سزاؤں،لوٹی گئی رقم کی رضاکارانہ واپسی اور نااہلیت سے متعلق شق پر تمام جماعتوں میں اتفاق رائے کیا گیا ہے،بدعنوانی ثابت ہونے پر سرکاری عوامی عہدیدار دونوں تاحیات نااہل ہوجائیں گے  کرپشن اور بدعنوانی ثابت ہونے پر سرکاری وعوامی عہدیدار دونوں ساری زندگی کسی بھی عہدے کےلئے نااہل ہوجائینگے۔اور احتساب کمیٹی میں بل کی منظوری کا کام شروع کیا گیا ہے اہم شقوں کی توثیق کردی گئی ہے،حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے بلز کے مسودوں کا جائزہ لے کر ان میں سفارشات شامل کرنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔اجلاس میں پی پی پی کے رہنما سید نوید قمر تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی،جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ،جے یو آئی ف کی نعیم کشور،ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری اور دیگر ارکان شریک ہوئے۔رضاکارانہ واپسی کی سہولت کو برقرار رکھا گیا ہے اور اگر رقم واپس نہیں ہوتی تو 14سال کی سزا دی جاسکے گی،پاکستان تحریک انصاف کا بھی کمیٹی میں تعاون حاصل ہے اور وہ بھی ان شقوں سے متفق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…