جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

افغانستان بڑے منصوبوں سے باہر،پاکستان کا وسطی ایشیائی ریاستوں کاراستہ تبدیل کرنے کا اعلان

datetime 28  فروری‬‮  2017 |

کابل /اسلام آباد(آئی این پی )سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان پرامن پڑوسی کے طور پر خوشحالی کے اس سفر میں شریک ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد، کابل میں امن چاہتا ہے اور اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، مگر ساتھ ہی ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ کابل پاکستان کے خلاف اپنی زمین کے استعمال کو روکے گا۔

خیال رہے کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس کا مقصد توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور تجات کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے،اجلاس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ بھی منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے مطابق پاکستان کی جانب سے اجلاس میں خطے کے عوام کے فائدے کے لیے زیادہ رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا جائے گا۔افغانستان کو ای سی او کے معاشی منصوبوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، تجزیہ کاروں نے افغانستان کی عدم دلچسپی کے باعث منصوبوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں پریشانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے، مگر سیکریٹری خارجہ اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغانستان کے بغیر بھی منصوبوں کی تکمیل مکمل ہوسکتی ہے۔سیکریٹری خارجہ نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کا مغروبی روٹ جب پاکستان سے چین میں داخل ہوتا ہے تو منصوبوں کا ایک دوسرے سے جڑجانا ممکن ہوجائے گا، کیوں کہ چین پہلے ہی تاجکستان اور کرغستان سے جڑا ہوا ہے اور ان ممالک کے ذریعے منصوبوں کو قازقستان سے جوڑا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاہم افغانستان کو اس منصوبے سے جوڑنے سے وہاں استحکام آئے گا، تاہم انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے افغانستان میں استحکام کی ضرورت ہے۔

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ عام طور پر ای سی سی او اجلاسوں میں اعلی سطح کی نمائندگی لازمی نہیں ہوتی اور اس سے پاکستان کی تنہائی ظاہر نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے کسی کو تنہا کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ چین کا خود اختیار علاقہ سنکیانگ دی بیلٹ اینڈ روڈ کیلئے نقل و حمل کا نیا ذریعہ بن گیاہے ، پہلی بار30 کنٹینرز پر مشتمل فریٹ ٹرین ارمچی سے قازقستان پہنچ گئی ۔چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق سنکیانگ دی بیلٹ اینڈ روڈ کیلئے نقل و حمل کا نیا ذریعہ بن گیا ہے ۔

پہلی بار تیس کنٹینرز پر مشتمل فریٹ ٹرین X9801 سنگیانگ کے صدر مقام ارمچی سے روانہ ہو کر ہورگس پورٹ سے گزر کر قازقستان کے شہر الماتی پہنچی ہے ۔ فریٹ ٹرین پر گاڑی کی اشیا، کپڑے اور روزمرہ زندگی کا سازو سامان ہے ۔ ٹرین X9801 کو ارمچی سے الماتی جانے کے لیے صرف تیس گھنٹے لگتے ہیں ۔ سفر کا یہ دورانیہ پہلے کے مقابلے میں دس گھنٹے کم ہو ا ہے ۔اور اس سے ٹرانسپورٹ کی کارکردگی بہتر ہو گئی ہے ۔ ہورگس پورٹ کے علاوہ ٹرین بھی ارمچی سے روانہ ہو کر الاتا پاس سے گزر کر وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…