جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پڑھیں صبح صبح خوشی کی خبر

datetime 27  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری خطے کے لئے گیم چینجر اور معاون ثابت ہو گی اس پرکشش موقع سے ایشیائی ملکوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے ای سی او کا فورم خطے میں روز گار کے ساز گار مواقع پیدا کرے گا ،پاکستان ای سی او کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ،افغانستان سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، ای سی اوکے تحت کابل میں افغانستان پر کانفرنس کاخیرمقدم کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز اقتصادی تعاون تنظیم کے سینئر حکام کا افتتاحی اجلاس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کو ای سی او سینئر حکام کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری خارجہ اعزاز احمدچوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیرہویں اجلاس کی میزبانی ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے ، اقتصادی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا اوراجلاس کا مقصد خطے کے استحکام کا حصول ہے، ای سی اوکے تحت کابل میں افغانستان پر کانفرنس کاخیرمقدم کرتے ہیں اورپاکستان افغانستان سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے افغانستان کا استحکام خطے کے لئے پائیدار ہے۔اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری صرف پاکستان نہیں بلکہ ای سی او ارکان کے لیے مفید ثابت ہوگا، یہ منصوبہ خطے کے ترقیاتی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اس اجلاس کے انعقاد کا مقصد خطے کے استحکام کا حصول ہے اس فورم کے ذریعے ہمیں ایک دوسرے سے تعلقات استوار کر نے کا موقع ملتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری خطے کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گی اس بہترین موقع سے تمام

ایشیائی ملکوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے تنظیم کا فورم خطے میں روز گار کے مواقع پیدا کر نے کے لئے معاون ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ اقتصادی تعاون تنظیم ملکوں کیساتھ قریبی تعاون کے خواہاں ہیں جبکہ سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم خلیل ابراہیم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ای سی او کے ذریعے تجارت ، توانائی ، مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں نئی راہیں کھلیں گی اجلاس کے انعقاد کا مقصد حصول میں کامیابی حاصل ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…