جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

دہشتگرد ی ختم نہیں ہوئی اس کا گراف نیچے آگیا ہے، چوہدری نثار

datetime 25  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ صوبوں کو بار بار دہشتگردوں سے متعلق آگاہ کیا، صوبوں نے کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھایا،یہ بھی بتایا دہشتگرد کہاں سے آئے گا،سیہون شریف میں سیکیورٹی وفاق کے بجائے صوبے کی ذمہ داری تھی۔سیہون واقعے پر وفاقی حکومت اور وزیرداخلہ پر تیر چلاتے رہے،ساڑھے تین سال میں دہشتگردی کیخلاف عملی طور پر اقدامات کیے گئے،اقدامات کی بدولت دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی،

بطور وزیر داخلہ نہ کریڈیٹ لینے کی کوشش کی اور نہ کسی پر تنقید کی،دہشتگردی کے واقعات پر سیاست کرنا سب سے بڑا گناہ ہے،غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کا کڑ ا احتساب کیا مگر تشہیر نہیں کی،ماضی کے مقابلے میں اب ہفتوں تک دھماکے نہیں ہوتے،دہشتگرد ی ختم نہیں ہوئی اس کا گراف نیچے آگیا ہے،دہشتگردی ختم نہیں تو ہمیں اس کیلئے تیار رہنا چاہیے،ملکی سلامتی کیلئے دہشتگردوں کی تشہیر روکنے کی اشد ضرورت ہے،میڈیا عوام تک آواز پہنچانے میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اہم ملکی امور پر مشاورت کیلئے میڈیا تنظیموں کے سربراہوں کو بلایا ہے،اجلاس میں دہشتگردی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوگی،اے پی ایس کے واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا۔انہوں نے کہا کہ دو سال قبل میڈیا تنظیموں کے نمائندوں سے اپیل کی تھی کہ میڈیا کے ادارے دہشتگردوں کے نمائندوں کی تشہیر نہ کریں،دہشتگردوں، تنظیموں اور ان کے نمائندوں کو مکمل بلیک لسٹ کرنا ہے،ملکی سلامتی کیلئے دہشتگردوں کی تشہیر روکنے کی اشد ضرورت ہے،میڈیا عوام تک آواز پہنچانے میں موثر کردار ادا کرتا ہے،اگر ہم مل کر قومی عزم کا اظہار کریں گے تو قوم مضبوط ہوگی۔چوہدری نثار نے کہا کہ ہمیں مایوسی اور خوف کے بادلوں کو اپنے سے دو ر رکھنا ہے،میڈیا عوام میں جذبہ اور یکجہتی پیدا کرے،کیا گذشتہ

ساڑھے تین سالوں میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی،2013میں دھماکوں کی اوسط 6سے7روزانہ تھی،اقدامات کی بدولت امن او امان کی صورتحال میں بہتری آئی،ماضی کے مقابلے میں اب ہفتوں تک دھماکے نہیں ہوتے،دہشتگرد ی ختم نہیں ہوئی اس کا گراف نیچے آگیا ہے،دہشتگردی ختم نہیں تو ہمیں اس کیلئے تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال 700میں سے صرف 260دھماکوں میں جانی نقصان ہوا،ماضی میں 30سے

40ہزار افغان باشندے سرحد سے آر پار آتے جاتے تھے،ساڑھے تین سال میں دہشتگردی کیخلاف عملی طور پر اقدامات کیے گئے،اقدامات کی بدولت دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔انہوں نے کہا کہ بطور وزیر داخلہ نہ کریڈیٹ لینے کی کوشش کی اور نہ کسی پر تنقید کی،دہشتگردی کے واقعات پر سیاست کرنا سب سے بڑا گناہ ہے،غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کا کڑ ا احتساب کیا مگر تشہیر نہیں کی۔وزیرداخلہ نے کہا کہ سہیون

شریف دھماکے پر اپوزیشن کے الزامات کا پہلی مرتبہ جواب دیا،،سیہون شریف میں سیکیورٹی وفاق کے بجائے صوبے کی ذمہ داری تھی۔سیہون واقعے پر وفاقی حکومت اور وزیرداخلہ پر تیر چلاتے رہے،سہیون دھماکے کے بعد صوبائی حکومت ترجمان نے واقعہ پر بات نہیں کی،صوبائی حکومت کا ترجمان وفاق پر تنقید کے نشتر برساتا رہا،سیہون واقعے پر بریفنگ میں چیف سیکرٹری سے پوچھا اس سے پہلے کیا حالات تھے؟،چیف

سیکرٹری نے سانحہ سہیون کی بریفنگ میں دھماکے کے بعد کی صورتحال بتائی،چیف سیکرٹری کے پاس سیکیورٹی سے متعلق کوئی جواب نہیں تھا،صرف اتنا بتایا کہ ہم نے اس زخمیوں کو اس طرح ہسپتال پہنچایا،سہیون میں مزار پر واک تھرو گیٹس نہیں تھے،سیکیورٹی نہیں تھی،بجلی نہیں تھی کیا یہ سب فراہم کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی،دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی،صوبوں کو بار بار دہشتگردوں سے متعلق آگاہ کیا، صوبوں نے کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھایا،یہ بھی بتایا دہشتگرد کہاں سے آئے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…