بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سنگاپورمیں لرزہ خیز واقعہ،پاکستانی نژاد شہریوں نے اپنے ہی ہم وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے

datetime 17  فروری‬‮  2017 |

سنگاپور(این این آئی) سنگا پور میں دو پاکستانیوں کو جوئے کے تنازع پر اپنے ایک ہم وطن کو قتل کرکے لاش کے ٹکرے کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سنگاپور کی ایک عدالت نے سزائے موت سنادی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سڑکوں پر ٹشو فروخت کرنے والے 45 سالہ رشید محمد اور 28 سالہ رمضان رضوان کو اپنے ایک پاکستانی ساتھی محمد نور کو 2014 میں اپنے گھر میں قتل کے بعد لاش کو آری سے کاٹنے کا مجرم قرار دیا

گیا۔59 سالہ مقتول محمد نور کے جسمانی اعضاء دو الگ الگ بیگز میں شہر سے ملے تھے۔ہائی کورٹ کے جج چو ہین ٹیک نے اس کیس کا فیصلے سنایا۔رشید اور رمضان مئی 2014 میں سنگاپور آئے تھے اور گزر اوقات کیلئے ٹشو پیکٹس فروخت کیا کرتے تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق تنازع کا آغاز اْس وقت ہوا، جب دونوں نے جوے میں ہاری گئی 11 سو سنگاپوری ڈالر (776 ڈالرز) کی رقم مقتول سے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔دستاویزات کے مطابق مقتول کا گلا گھونٹنے کے بعد دونوں نے اس کے جسم کے ٹکرے کرنے کیلئے آری خریدی، ایک بیگ میں موجود مقتول کا جسم ایک 81 سالہ شخص نے دیکھا ٗ گرفتاری کے بعد رشید نے پولیس کو دوسرے بیگ کی نشاندہی کی جس میں مقتول کی ٹانگیں موجود تھیں۔ان کے وکیل نے عدالت میں ایک بیگ میں موجود مقتول کا جسم ایک 81 سالہ شخص نے دیکھا ٗ گرفتاری کے بعد رشید نے پولیس کو دوسرے بیگ کی نشاندہی کی جس میں مقتول کی ٹانگیں موجود تھیں۔ان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ ان کے موکل قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔دلائل دیئے کہ ان کے موکل قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔رشید اور رمضان کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے ٗ رشید کے 8 ٗ رمضان کے 3 بچے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…