پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

سنگاپورمیں لرزہ خیز واقعہ،پاکستانی نژاد شہریوں نے اپنے ہی ہم وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے

datetime 17  فروری‬‮  2017 |

سنگاپور(این این آئی) سنگا پور میں دو پاکستانیوں کو جوئے کے تنازع پر اپنے ایک ہم وطن کو قتل کرکے لاش کے ٹکرے کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سنگاپور کی ایک عدالت نے سزائے موت سنادی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سڑکوں پر ٹشو فروخت کرنے والے 45 سالہ رشید محمد اور 28 سالہ رمضان رضوان کو اپنے ایک پاکستانی ساتھی محمد نور کو 2014 میں اپنے گھر میں قتل کے بعد لاش کو آری سے کاٹنے کا مجرم قرار دیا

گیا۔59 سالہ مقتول محمد نور کے جسمانی اعضاء دو الگ الگ بیگز میں شہر سے ملے تھے۔ہائی کورٹ کے جج چو ہین ٹیک نے اس کیس کا فیصلے سنایا۔رشید اور رمضان مئی 2014 میں سنگاپور آئے تھے اور گزر اوقات کیلئے ٹشو پیکٹس فروخت کیا کرتے تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق تنازع کا آغاز اْس وقت ہوا، جب دونوں نے جوے میں ہاری گئی 11 سو سنگاپوری ڈالر (776 ڈالرز) کی رقم مقتول سے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔دستاویزات کے مطابق مقتول کا گلا گھونٹنے کے بعد دونوں نے اس کے جسم کے ٹکرے کرنے کیلئے آری خریدی، ایک بیگ میں موجود مقتول کا جسم ایک 81 سالہ شخص نے دیکھا ٗ گرفتاری کے بعد رشید نے پولیس کو دوسرے بیگ کی نشاندہی کی جس میں مقتول کی ٹانگیں موجود تھیں۔ان کے وکیل نے عدالت میں ایک بیگ میں موجود مقتول کا جسم ایک 81 سالہ شخص نے دیکھا ٗ گرفتاری کے بعد رشید نے پولیس کو دوسرے بیگ کی نشاندہی کی جس میں مقتول کی ٹانگیں موجود تھیں۔ان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ ان کے موکل قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔دلائل دیئے کہ ان کے موکل قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔رشید اور رمضان کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے ٗ رشید کے 8 ٗ رمضان کے 3 بچے ہیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…