اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاکستا نی لڑکی کا طلاق کے بعد جشن۔۔۔۔ تصاویر نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑ ا کر دیا

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خوشی تو ہر کوئی بڑی دھوم دھام سے مناتا ہے ،لیکن آج کل ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو غم کا بھی جشن مناتے ہیں ۔لاہور کے نجی ہوٹل میں دو سہیلیوں نےطلاق کا جشن مناکر غم غلط کیا۔تفصیلات کے مطابق ماہم جو ایک ٹیلی کام انجینئر ہے جسے اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی کی سہیلی جویریہ جو کہ نفیسات کی طالبہ ہے

نے اس کے غم کو خوشی میں بدلنے کا انوکھاطریقہ ڈھونڈ نکالا جس سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ واپس آگئی۔ ماہم کی طلاق اور اس کے غم میں مبتلا ہونے پر جویریہ کو اس کی اداسی نے پریشان کر دیا تھا جس پر جویریہ نے ماہم کو لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں مدعو کیا اور اس کے سامنے ایک چاکلیٹ کیک رکھ دیا جس پر ’’ہیپی ڈائیوورس‘‘ لکھا تھا۔کیک کاٹنے کے بعد دونوں نے طلاق کا جشن منایا جس کی تصاویر سوشل میـڈیا پر وائرل ہو گئیں ۔ماہم کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کی قطعی خبر نہیں تھی اور جویریہ نے یہ سب میری چہرے پہ خوشی لانے کے لیے کیا۔لوگوں نے جہاں اداسی بھگانے کے اس طریقے کو سراہا وہاں کئی لوگوں نے دونوں خواتین کے اس طریقے کی ملامت بھی کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…