جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم نے کرپشن چھپانے کے لئے تمام اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے ،عمران خان

datetime 30  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے صاحبزادوں نے انصاف سے بچنے کے لئے منی لانڈرنگ کے الزامات اپنے دادا پر عائد کر دیئے ہیں ۔ ۔ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اس سے خوشحال پاکستان معرض وجود میں آئے گا ۔ وزیراعظم نے کرپشن چھپانے کے لئے تمام قومی اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سپریم کورٹ میں شریف خاندان پر

 

واضح ہوا ہے کہ ان کے پاس منی ٹریل نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ میں جو انکشاف ہو رہے ہیں وہ اب قوم کے سامنے ہیں۔ اسمبلی تقریر میں واضح دستاویز پیش کرنے کا کہا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ میں حکومتی وکیل کہتے ہیں کہ یہ تو بہت دیر کی بات ہے۔ کیش ٹرانزیکشن ہوئی تھی۔ یعنی کہ ایک کروڑ بیس لاکھ درہم گاڑیوں میں یہ لوگ لی کر گئے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ اب کیس کے آگے چلتے ہی بیان بھی بدلتے جا رہے ہیں۔ دبئی سے جدہ اور پھر جدہ سے لندن پیسے بھیجنے کی کوئی دستاویز بھی نہیں ہے۔ اب سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ قطری کو پیسے دیئے گئے اور پھر قطری نے پیسے لندن میں پہنچا دیئے۔ بیچ میں جدہ کا نام ہی اڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلف سٹیل مل جس نے انڈے دیئے آج سپریم کورٹ میں اس پر بھی بات ہوئی ۔ ڈیڈھ کروڑ درہم گلف سٹیل مل نے نقصان کیا تھا تو پھر پیسہ آگے کیسے گیا۔ ان کے پاس کوئی جواب بھی نہیں تھا۔ عمران خان نے کہا کہ پھر پیسے ان لوگوں نے کیش دیئے بینکوں کے ذریعے بھی نہیں دیئے گئے ورنہ ان کے پاس منی ٹریل ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ گلف کے پاس تو پیسے نہیں تھے وہ نقصان میں جا رہی تھی لیکن حقیقت میں اسحاق ڈار وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔ وہ اصل منی ٹریل تھا اور انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ نواز شریف کے لئے

 

منی لانڈرنگ کرتے تھے۔ پھر کیس ہائی کورٹ میں چیئر مین نیب نے بری قرار دیا کیونکہ وہ چیئر مین نیب نواز شریف کا اپنا لگایا ہوا تھا اور اس نے آگے گواہ کو بھی بری کروا دیا۔ سپریم کورٹ نے ایسے پہلے وزیراعظم کی کبھی بھی تلاشی نہیں لی پہلی مرتبہ پاکستان کی تاریخ میں وزیراعظم کی تلاشی لی جا رہی ہے۔نواز اگر خود نیب کا چیئر مین بنائیں گے تو پھر وہ کیسے نواز شریف کے خلاف ایکشن لے گا۔ ایف بی آر شریف خاندان کو بچانے

 

کے لئے دستاویز بنا رہی ہے۔ نیب ایف آئی اے، ایف بی آر تمام ادارے وزیراعظم کے نیچے ہوں گے تو پھر کس طرح وزیراعظم کی کرپشن کے خلاف ایکشن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو اپوزیشن نے پانامہ انکشاف کے بعد ایکشن لیا ورنہ دو سو سال گزرنے کے بعد بھی یہ بات عیاں نہ ہوتی۔ وزیراعظم اپنے ساتھ کرپشن میں ملوث مزید طاقتوروں کی کرپشن کو بھی اس ضمن میں بچا رہے ہیں تو پھر اس ملک کا

 

کیا مستقبل ہوگا۔ جو کہ وزیراعظم کی کرپشن کو بچانے کے لئے سارا نظام بنایا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔ مریم نواز سلمان شہباز کے بیانوں میں تضاد واضح ہے اگر حلال کی پراپرٹی ہوتی تو جھوٹ کی ضرورت نہ ہوتی۔ میں نے اپنے لندن فلیٹ کو تسلیم کیا کیونکہ میری حلال کی کمائی تھی اور اب یہ لوگ پکڑے گئے ہیں امید ہے کہ پاکستان کا فیصلہ ہو رہا ہے ۔ ہمیں عدالت پر اعتماد ہے جو بھی فیصلہ ہو گا قبول کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…