پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

افغانستان میں کتنے اسکول عسکری مقاصد کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں؟ افغان محکمہ تعلیم کاحیرت انگیزانکشاف

datetime 27  جنوری‬‮  2017 |

کابل (آئی این پی )افغان محکمہ تعلیم کے حکام نے افغان سکیورٹی فورسز اور شدت پسند گروہوں کی طرف سے اسکولوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال نا صرف بچوں کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے بلکہ وہ تعلیم کے حصول سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر برائے اطلاعات کبیر اکمل نے بتایا کہ بدقسمتی سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں لگ بھگ 30 اسکول ایسے ہیں

جنہیں افغانستان کی سرکاری فورسز اور عسکریت پسند گروپ عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔افغان محکمہ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان اسکولوں کو بطور فوجی اڈے استعمال نہیں کر رہے بلکہ انہیں طالبان کی تباہی اور ان کے قبضہ سے محفوظ رکھنے کے لیے وہاں موجود ہیں۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان محمد راد منش نے کہا کہ جب دشمن ان اسکولوں کو استعمال کرتے ہیں تو ہمیں انہیں بچوں کو بچانا ہوتا ہے اور دشمن کو اسکولوں سے نکال باہر کرنا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم وہاں ٹھہر جاتے ہیں۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی افغانستان میں واقع بغلان میں کم از کم دو اسکول ایسے ہیں جو کئی ماہ سے بند پڑے ہیں۔مقامی حکام نے مزید بتایا کہ افغان فوجی ان اسکولوں کو طالبان جنگجوں سے ہونے والی لڑائی کے دوران استعمال کر رہے ہیں۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے کہا کہ بغلان کے اسکولوں سے وابستہ اساتذہ نے فوج کو کئی خطوط لکھے جن میں ان اسکولوں کو خالی کرنے کا کہا گیا تھا، لیکن انہیں اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ سردی کے مہینوں میں طالبان کی عسکری کارروائیاں رکنے کی وجہ سے افغان فوجی یہاں سے واپس چلے گئے ہیں۔دوسری طرف موسم سرما کی چھٹیوں کی وجہ سے اسکول بند ہیں اور اساتذہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ موسم بہار میں جب اسکول دوبارہ کھلیں گے تو تعلیم کا سلسلہ موثر انداز میں دوبارہ شروع ہو جائے گا

افغانستان میں اتحادی حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے گزشتہ سال اسکولوں کو فوجی مقاصد کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسکولوں اور اسپتالوں سمیت دیگر شہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔عبداللہ نے کہا کہ “ہم یہ نا سنیں کہ بدترین حالات میں بھی طبی مراکز یا اسکولوں کو جنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔طالبان کے دور حکومت کے خاتمے کے بعد گزشتہ 15 سالوں میں افغانستان میں تعلیم کے شعبے میں بہتری آئی ہے لاکھوں بچے بشمول لڑکیاں اسکولوں میں داخل ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…