جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

پاک بحریہ کا ہنگامی ریکسیو آپریشن ۔۔کس طرح سمندر میں ڈوبتے ہوئے 18 ماہی گیروں کو بچا لیا؟

datetime 15  جنوری‬‮  2017 |

اورماڑہ(مانیٹرنگ ڈیسک)پاک بحریہ نے اورماڑہ کے قریب کھلے سمندر میں ڈوبتی کشتی سے 18مچھیروں کو بچالیا۔ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک بحریہ کی ریسکیو ٹیم نے کامیاب آپریشن کے بعد اورماڑہ کے ساحل کے قریب ڈوبتی کشتی سے 18مچھیروں کو زندہ بچالیا۔الرحمان نامی کشتی 25دسمبر 2016کو 18مچھیروں کے ساتھ کراچی سے روانہ ہوئی، جس کے دونوں انجن دورانِ سفر خراب ہوگئے۔
جناح نیول بیس اورماڑہ میں مشکل سے دوچار کشتی سے پیغام موصول ہوا کہ کشتی میں پانی بھرنا شروع ہوچکا ہے اور اگر بروقت امداد نہ پہنچی تو کشتی پر موجود18انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔پیغام ملتے ہی پاک بحریہ کی امدادی ٹیم کو جناح نیول بیس اورماڑہ سے فوراَ روانہ کیا گیا جو بروقت جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔ پاک بحریہ کی امدادی ٹیم پورے آپریشن کے دوران اونچی سمندری لہروں، تیز ہواوں، انتہائی خراب موسم اور دُھندکا سامنا کرنا پڑا۔ کمانڈر جناح نیول بیس نے امدادی کرافٹ سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی بذاتِ خود نگرانی کی۔
پاک بحریہ کی امدادی ٹیم نے تین گھنٹے کی مسلسل کاروائی کے بعد تمام 18مچھیروں کو ڈوبتی کشتی سے بحفاظت نکال لیا ۔نا مساعد حالات کا سامنا کرنے کے بعدمچھیروں کی حالت خراب ہوچکی تھی جنہیں پاک بحریہ کے جناح نیول بیس اورماڑہ لایا گیا اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…