اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

1995ء اور 2002ء کے بعدایک اورخطرے نے سِر اُٹھالیا،سائنسدانوں نے خبردار کردیا

datetime 6  جنوری‬‮  2017 |

لندن (آئی این پی ) لارسن سی برفانی تودہ کے ٹوٹنے کے بعد اینٹارکٹیکا کے شمالی خطے کی ساری برف اگر سمندروں میں شامل ہو جائے تو دنیا بھر میں سطح سمندر میں دس میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے،سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں موجود دنیا کے دس بڑے برفانی تودوں میں سے ایک تودہ ٹوٹ کر الگ ہونے کے قریب ہے۔لارسن سی نامی تودے میں طویل عرصے سے موجود شگاف دسمبر کے مہینے میں اچانک بڑھ گیا اور اب صرف 20 کلومیٹر لمبا برف کا ٹکڑا اِس پانچ ہزار کلومیٹر لمبے تودے کو برفانی خطے سے جوڑ کے رکھا ہوا ہے۔لارسن سی برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی حصے میں واقع ہے اور اس کی موٹائی 350 میٹر ہے۔سوانزی میں موجود محققین کے مطابق اگر یہ برفانی تودہ ٹوٹ جاتا ہے تو مستقبل میں پورے شمالی خطے کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔

لارسن سی میں موجود شگاف پر سائنسدان ایک طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 1995 میں لارسن اے اور پھر 2002 میں لارسن بی بھی اسی طرح انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی خطے سے ٹوٹ کر الگ ہو گئے تھے۔سائنسدانوں کے مطابق دسمبر میں لارسن سی کا شگاف اچانک سے بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔سوانزی یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر ایڈریئن لکمین نے بتایا کہ اگر یہ برفانی تودہ اگلے چند مہینوں میں ٹوٹ کر الگ نہیں ہو جاتا تو میں بہت حیران ہوں گا۔سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ شگاف اور برفانی تودے کا ٹوٹنا ایک جغرافیائی عمل ہے اور اس کا ماحولیاتی تبدیلی سے بظاہر تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ شاید ماحولیاتی حرارت بڑھنے کے وجہ سے لارسن سی کے شگاف کے بڑھنے کے عمل میں تیزی آئی ہو لیکن اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔سائنسدانوں کے اندازوں کے مطابق لارسن سی برفانی تودہ کے ٹوٹنے کے بعد اینٹارکٹیکا کے شمالی خطے کی ساری برف اگر سمندروں میں شامل ہو جائے تو دنیا بھر میں سطح سمندر میں دس میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس بات کا مستقبلِ قریب میں ہونا ممکن نہیں ہے۔ڈاکٹر ایڈریئن کہتے ہیں کہ ‘برفانی خطے کے ٹوٹنے کے ممکنہ نتائج سامنے آنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ یہ بس ایک بہت بڑا جغرافیائی عمل ہے جو کہ انٹارکٹیکا کے لینڈسکیپ کو تبدیل کر دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…