اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اس خاتون کو سب ایک ہزار مردوں کے برابر کیوں سمجھتے ہیں ؟ آخر اس میں ایسی کیا بات ہے ؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

datetime 2  جنوری‬‮  2017 |

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) کسی نے بہت خوب بات کہی تھی کہ’’ ایک سیب گرا اور کشش ثقل دریافت ہو گئی مگر روز ہزاروں انسان گرتے ہیں اور افسوس کہ انسانیت آج بھی دریافت نہ ہو سکی ‘‘ ۔ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کیلئے جینے والے ہی زندگی میں شان اور موت کے بعد عزت ، وقار اور آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے زاد راہ چھوڑ جاتے ہیں کہ لوگ انسانیت کی راہ پر چل نکلیں اور معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن جائے ۔

آج حلب جل رہا ہے اور بالخصوص شہر کا مشرقی حصہ، جو شدت پسندوں کے قبضے میں ہے، میں رہنا موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے جہاں سے ڈاکٹربھی جان بچا کر نکلنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایک بہادر خاتون ڈاکٹر اپنی 8سالہ بیٹی کے ہمراہ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ اس باہمت اور دلیر خاتون کا نام ڈاکٹر فریدہ ہے جسے اس کے ساتھی ورکرز اور آس پاس کے رہائشیوں نے ’’ایک ہزار مردوں سے زیادہ مضبوط خاتون‘‘ قرار دیا ہے۔معروف اخباری رپورٹ کے مطابق مشرقی حلب سے آج سے دو ماہ قبل تمام ڈاکٹر نکل گئے تھے لیکن ڈاکٹر فریدہ اپنی بیٹی کے ساتھ اب تک وہیں موجود ہ ہیں۔ڈاکٹر فریدہ کہتی ہیں کہ میرا کام میری زندگی ہے۔ میں دنیا میں آنے والے ننھے بچوں کو دیکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔رواں ماہ بشارالاسد کی فوج اور اس کی معاون افواج کی بمباری سے ڈاکٹر فریدہ کا گھر تباہ ہو گیا تھا لیکن خوش قسمتی سے وہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھیں۔ اس نے اپنے ہمسائے میں ایک خالی گھر میں اس امید میں 2چوزے بھی پال رکھے ہیں کہ وہ ایک دن مرغیاں بنیں گی اور انڈے دیں گی جو وہ اپنی بیٹی کو کھلائے گی۔ وہ روزانہ 10سے 15خواتین کی ڈلیوری کر رہی ہے۔ ان نومولودوں کو ایک خطرناک مستقبل کا سامنا ہے۔

ان میں سے اکثر کے باپ ہی زندہ نہیں رہے۔ ڈاکٹر فریدہ کا مزید کہنا تھا کہ ’’جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کا پہلا رونا اور پھر انہیں دیکھ کر ان کی ماؤں کے چہروں پر آنے والی مسکراہٹ مجھے حلب سے نہیں نکلنے دیتی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جانے کیلئے آفرز موجود ہیں تاہم یہ میری اور میرے پیشے کی غیرت کو گوارا نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…