ریاض(آئی این پی ) سعودی پولیس نے نوجوان لڑکی کو عبایا اتارنے پر گرفتار کرلیا۔مقامی عربی اخبار ’’الشرق‘‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی پولیس نے لڑکی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب پولیس کے پاس اس حوالے سے شکایت درج کروائی گئی۔الشرق نے ریاض پولیس کے ترجمان کرنل فواض المیمان کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے ایک لڑکی کو التہلیہ اسٹریٹ سے اس وقت گرفتار کیا، جب اس نے اپنا عبایا اتارا، جس کا کچھ دن قبل اس نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب ایک اور ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ ‘ایک نامعلوم خاتون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا تھا کہ وہ عوامی مقامات پر عبایا کے بغیر جائیں گی۔سبق اور دیگر ویب سائٹس نے ایک نوجوان لڑکی کی تصویر شیئر کی، جس میں اسے سیاہ جیکٹ اور ٹخنوں تک آتے نارنجی اور گلابی لباس میں دیکھا جاسکتا ہے۔
اس تصویر پر سعودی شہریوں کی جانب سے سخت ناراضگی اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا، ‘لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ہم ریاستی قوانین کا احترام نہ کرنے پر سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں’۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے لیے عبایا پہننا لازمی ہے، جبکہ انھیں مخلوط محفلوں میں شرکت اور ڈرائیونگ کی بھی اجازت نہیں ہے۔
سعودی عرب نوجوان لڑکی کو عبایا اتارنے پر کیا سزا دیدی گئی ، جان کر حیران رہ جائینگے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
موسم گرما کی سرکاری تعطیلات،حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری!
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کے مفت صارفین کیلئے بہت بڑا تحفہ
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
موسم کا تیور بدل گیا، ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت



















































