ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

’’انسانیت برائے فروخت ‘‘۔۔۔قیمت صرف 1500روپے کراچی میں انسانوں کی منڈی سج گئی ۔۔ ایسی تفصیلات آگئیں کہ شیطان بھی بہرا ہو جائے

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) یہ بات آج کی نہیں ، پاکستان سمیت پوری دنیامیں شاید انسان اور انسانیت کے ہوش پکڑنے کے بعد سے ہی یہ کام پورے زور و شور سے جاری و ساری ہے ۔ حوا کی بیٹی کی تذلیل کہاں کہاں اور کن کن طریقوں سے کی جارہی ہے ؟ یہ بات یقیناً بہت سے لوگ جانتے ہونگے ۔ کہیں پر ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے نام پربننے والے اس مملکت خداداد میں عورت کی عزت اس قدر سستی ہے کہ اسے محض ہوس کے پجاریوں کی پیاس بجھانے کیلئے چند ٹکوں میں فروخت کر دیا جائے ۔
معاشرے کا یہ ناسور آج پاکستان کے ایک دو علاقوں میں ہی محدود نہیں بلکہ ایک وبا کی طرح یہ مرض پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے ۔ تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی حال ہی میں شہرقائد کے علاقے گلستان جوہرمیں قحبہ خانہ پکڑا گیا جہاں 1500روپے میں جنسی ہوس بجھانے کے لیے لڑکیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح مرد حضرات کے سامنے پیش کیا جارہا تھا۔ قحبہ خانے کی اطلاع گلستان جوہر کے رہائشی علاقے کے مکینوں کی جانب سے دی گئی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس قحبہ خانے پر چھاپہ مار کر انسانیت کی تذلیل کے کام میں ملوث مردوں اور خواتین کو گرفتار کیا ۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ ا بتدائی پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہواکہ بیشتر لڑکیوں کا تعلق دیگر شہروں سے تھا جبکہ کسی لڑکی نے یہ نہیں کہا کہ اس سے زبردستی بدکاری کروائی گئی بلکہ تمام کاکہناتھاکہ وہ مجبوری میں اپنی مرضی سے گناہ کی مرتکب ہورہی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…