اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

10سالوں سے قائم جعلی امریکی سفارتخانہ پکڑا گیا ۔۔ کہاں قائم تھا اور لوگوں کو کس طرح بے وقوف بنایا جارہا تھا؟ سنسنی خیز انکشافات

datetime 4  دسمبر‬‮  2016 |

آکرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بالی ووڈ فلموں میں دیکھا کرتے تھےکہ کس طرح ایک آوارہ نکما انسان امریکہ جاتا ہے اور تھوڑےہی عرصے میںواپس آکربڑے ٹشن کے ساتھ لوگوں میں بابو بن کے رہتا ہے ۔ گاڑی ،بنگلہ، روپیہ پیسہ ، نوکر چاکر یہ سب چیزیں ان فلموں میں دیکھا دیکھی معصوم اور بھولی عوام کو بھی لگا کہ واقعی امریکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کوئی غم ، کوئی فکر نہیں ، سب ہمیشہ خوش رہتے ہیں ۔ بس پھر کیا تھا سب چل پڑے اسی ڈگر اپنے ملک میں کام نہیں تو چلتے ہیں پھر امریکہ کو۔
معصوم لوگوں کی اسی بات کو مد نظر رکھ کر چالاک لوگوں  نے عوام کو بری طرح لوٹا ۔ ایسا ہی ایک واقعہ گھانا میں پیش آیا جہاں سرعام جعلی امریکی سفارتخانہ چلایا جارہا تھا۔
یہ جعلی سفارتخانہ گزشتہ 10 سال سے لوگوں کو لوٹ رہا تھا لیکن کسی کو توقیق نہ ہوئی کہ اس کی اصلیت کا پتہ چلاسکتا۔ویب سائٹ کنزیومرسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ جعلی امریکی سفارتخانہ گھانا کے دارالحکومت میں واقع تھا اور اصلی سفارتخانے کے برعکس ایک چھوٹی سی مخدوش دو منزلہ عمارت میں قائم کیا گیا تھا۔ جعلی سفارتخانہ چلانے والوںنے صحن میں امریکی جھنڈا لہرا رکھا تھا اور کمروں کے اندر بھی امریکہ کے مختلف مقامات کی تصاویر لگارکھی تھیں، جبکہ مرکزی ہال میں امریکی صدر کی تصویر آویزاں کی ہوئی تھی۔ انہوں نے کچھ جعلی امریکیوںکا بھی بندوبست کررکھا تھا، جو دراصل ترک باشندے نکلے جو ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولنا جانتے تھے۔آکرہ میں واقع اصلی امریکی سفارتخانے کو جب جعلی سفارتخانے کے متعلق اطلاع ملی تو انہوں نے مقامی پولیس کو اس کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ جعلی سفارتخانہ پولیس کی ملی بھگت سے ہی چلایا جارہا تھا لہٰذا اس پر چھاپہ مارنے سے پہلے ہی ملزمان کو فرار کروادیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق جعلی سفارتخانہ چلانے والے مجرم گھانا کے دور دراز علاقوں کے لوگوں کے ساتھ فراڈ کرتے تھے اور انہیں ہزاروں ڈالر کے عوض جعلی ویزے اور دیگر دستاویزات بیچتے تھے۔ مزید تحقیقات میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ اسی شہر میں نیدر لینڈز کا جعلی سفارتخانہ بھی چلا یا جارہا تھا۔ اسے چلانے والے ملزمان بھی پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…