پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

نئی گیم شروع،امریکی یونیورسٹی میں حملہ،پاکستان پر سنگین الزام عائد کردیاگیا

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کولمبس(این این آئی)اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی حملے میں 11 افراد کو اپنی گاڑی اور چھریوں کے وار کرکے زخمی کرنے والا صومالی طالب علم عبدالرزاق علی ارتن کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ 7 سال پاکستان میں مقیم رہا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تفتیش کاروں سامنے یہ بات آئی کہ عبدالرزاق علی ارتن 2014 میں اپنی والدہ کے ساتھ پناہ گزین کی صورت امریکا پہنچا اور اس سے پہلے 7 سال تک وہ پاکستان میں رہتا تھا۔حملہ ٓور نوجوان جسے مبینہ طور پر داعش کا حامی بھی قرار دیا جارہا ہے اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی

کے لاجسٹکس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں تیسرے سال کا طالب علم تھا۔حملہ آور نوجوان جسے مبینہ طور پر داعش کا حامی بھی قرار دیا جارہا ہے اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے لاجسٹکس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ میں تیسرے سال کا طالب علم تھا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والے اچانک حملے کا دورانیہ چند منٹ

پر محدود تھا نوجوان اپنی گاڑی لے کر ہجوم کی جانب بڑھا اور چند ہی لمحوں میں پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا۔

داعش کی خبر رساں ادارہ قرار دی جانے والی ایجنسی اعماق کے مطابق عبدالرزاق کو داعش کا جنگجو قرار دیا گیا اعماق کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عبدالرزاق نے یہ حملہ بین الاقوامی اتحادی ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیا۔واضح رہے کہ امریکی ٹیلی ویڑن نے گذشتہ روز عبدالرزاق کی اس

فیس بک پوسٹ کو بھی شیئر کیا تھا جس میں اس نے امریکا مخالف پیغام دیا تھا۔عبدالرزاق کی پوسٹ میں درج تھا کہ میں یہ سب مزید برداشت نہیں کرسکتا امریکا! دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی بند کرو، بالخصوص مسلم امہ کے معاملات میں، ہم کمزور نہیں ہیں، یاد رکھو کہ ہم کمزور نہیں ہیں۔پوسٹ میں درج تھا

کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم مسلمان حملے کرنا بند کریں تو امن قائم کرو، ہم تمہیں اس وقت تک نہیں سونے دیں گے جب تک تم مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دو گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…