بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

پارلیمنٹ کا بائیکاٹ،تحریک انصاف بڑی مشکل میں پھنس گئے،اپنوں نے ہی بجلیاں گرادیں

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی قیادت کی جانب سے ترک صدر طیب اردگان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کے کئی ارکان اسمبلی ناراض ہوگئے ۔نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی آئی کے پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد جب ناراض رہنماؤں سے رابطہ کیا گیا تو پی ٹی آئی کے کئی سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی نے نے شکوہ کیا کہ اس معاملے پر پارٹی قیادت نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔انہوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ اہم فیصلے میڈیا اسٹریٹجی کمیٹی کررہی ہے جسے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے حوالے سے پارٹی کا موقف تیار کرنے کیلئے اور پاناما کے معاملے پر وزراء کے بیانات کا جواب دینے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے ہفتے کے روز اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اس کے ارکان 17 نومبرکو طلب کیے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے جس سے ترک صدر خطاب کریں گے۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی نے کہا کہ مجھے صبح اخبار کے ذریعے معلوم ہوا کہ پارٹی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔رکن اسمبلی نے شکوہ کیا کہ پارٹی قیادت میں سے کسی کو بھی اتنی زحمت نہیں ہوتی کہ وہ کسی اقدام پر ارکان اسمبلی کی رائے لے لے۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرنے سے قبل سینیٹ میں اپنے پارلیمانی لیڈر نعمان وزیر سے بھی مشورہ نہیں کیا۔ایک اور رکن اسمبلی نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک پارٹی جو جدید ٹیکنالوجی اور واٹس ایپ اور ٹوئیٹر کے ذریعے رابطے کے حوالے سے جانی جاتی ہے اس نے ان فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل ان ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ارکان سے رائے نہیں لی۔انہوں نے کہاکہ پارٹی سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد اپنا دھرنا منسوخ کرسکتی ہے تو پھر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ جاری رکھنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔انہوں نے کہاکہ پارٹی کے بنیادی ڈھانچے میں نام نہاد اسٹریٹجی کمیٹی کا کوئی کردار نہیں ہے۔اس حوالے سے جب شاہ محمود قریشی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی اور سینیٹرز سے وقت کی کمی کے باعث رابطہ نہ کیا جاسکا۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی سینئر رہنماؤں پر مشتمل ہے جس میں ان سمیت پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین، اسد عمر، شفقت محمود، عارف علوی، منزہ حسن اور شیریں مزاری شامل ہیں۔جب ان سے کہا گیا کہ پارٹی کے میڈیا آفس کی جانب سے اجلاس کی جاری کی جانے والی تصویر میں نہ تو آپ اور نہ ہی جہانگیر ترین اور عارف علوی موجود تھے تو انہوں نے کہا کہ شائد میں تصویر لیے جانے کے بعد پہنچا ہوں گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہانگیر ترین ملتان اور عارف علوی کراچی میں تھے لیکن ان سے مشاورت کی گئی تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد لیتے ہوئے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز سے بھی رابطہ کیا جاسکتا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…