اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بلاول بھٹو کی جانب سے کی جانے والی دوستی کی پیشکش پر غور شروع کردیا ، حتمی فیصلہ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پی ٹی آئی پاناما گیٹ اور دیگر معاملات پر ساتھ چلنے کی بلاول بھٹو کی پیشکش پر غور کررہی ہے لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ اسلام آباد میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں کیا جائے گا جس کی صدارت چیئرمین عمران خان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی دوستی کی پیشکش پر بلاول بھٹو کی سنجیدگی کا جائزہ لے گی کیوں کہ ایک جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین دوستی کا ہاتھ بڑھارہے ہیں اور دوسری جانب وہ عمران خان کے خلاف بیانات بھی دیتے ہیں۔جہانگیر ترین نے کہا کہ دراصل پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی پاناما گیٹ کے معاملے پر ایک ہی پیج پر ہیں، ہم نے مشترکہ طور پر ٹی او آرز کو حتمی شکل دی اور پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی لاہور ریلی میں شرکت بھی کی لیکن اس کے بعد پیپلز پارٹی نے رائے ونڈ اور اسلام آباد کے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی تمام اپوزیشن کو جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔جہانگیر ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں پارٹی کو دوبارہ فعال کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے ن لیگ کے خلاف دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔بلاول بھٹو نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کی جماعت عمران خان کے ارادے جاننے کے بعد ان کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار ہے جبکہ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اب تک پیپلز پارٹی عمران خان کے ساتھ کار آمد شراکت داری قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پیپلز پارٹی پی ٹی آئی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جوائنٹ اپوزیشن ہی اپنے مقاصد حاصل کرسکتی ہے۔پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف ایک دوسرے کی جانب سے بیان بازی کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے قمر زمان قائرہ نے کہا کہ ہماری طرف سے پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف کوئی مخالفانہ بیانات نہیں دیے گئے، ہم نے ہمیشہ تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی اور اہم معاملات پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بلاول بھٹو نے عمران خان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا کیوں کہ انہیں یقین ہے کہ جوائنٹ اپوزیشن ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے اور حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے 4 مطالبات پر عمل درآمد کے لیے پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جن میں پیپلز پارٹی کے پاناما بل کی منظوری، قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کا قیام، سی پیک سے متعلق قراردادوں پر عمل درآمد اور وزیر خارجہ کی تعیناتی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کبھی سولو فلائٹ پر یقین نہیں رکھتی اور حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے گی۔واضح رہے کہ بلاول بھٹو نے نواز شریف کی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ 27 دسمبر تک پیپلز پارٹی کے چار مطالبات پورے کیے جائیں ورنہ پھر لانگ مارچ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔
تحریک انصاف نے بلاول زرداری کی آفر قبول کر لی‘ دونوں جماعتیں مل کر کیا کرنے والی ہیں؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سیمنٹ کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی بوری کی نئی قیمت سامنے آگئی
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا نیا بولر مل گیا
-
سونا سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ،اپنا گھر بنانے والوں کیلئے بڑی خبر
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں حیران کن کمی



















































