ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

سرل لیکس کمیشن کے سربراہ اور ان کی بیٹی کس کے ملازم ہیں؟طاہرالقادری نے بہت بڑا دعویٰ کردیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لندن /لاہور(این این آئی )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے اپنے ملازم کو سرل لیکس کمیشن کا سربراہ مقرر کئے جانے پر میں نیوز لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے ایک بار پھر کہوں گا ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے دعا گو بھی ہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور اسکے 19کروڑ عوام کی حفاظت کرے اس کے ساتھ ساتھ کرپٹ مقتدر ایلیٹ کے ہاتھوں بچ جانیوالے واحد ادارے فوج کی سلامتی کیلئے بھی دعا گو ہوں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لندن میں الیکٹرونک میڈیا کے پاکستانی نمائندوں اور سنیئر صحافیوں کے اعزاز میں دئیے جانیوالے عشائیہ کے موقع پر گفتگو ہوئے کیا ۔

اس موقع پر تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر حسن محی الدین، صدر یوکے خرم شہزاد، جنرل سیکرٹری عمرنوید، میڈیا کوارڈینیٹرآفتاب بیگ،شاہد مرسلین اورداؤد مشہدی بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ قوم کو دھوکہ دینے کیلئے ریٹائرڈ جسٹس کا نام استعمال کیا گیا یہ ریٹائرڈ جسٹس اس وقت پنجاب حکومت کے ملازم ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیئرمین ہیں جن کا تقرر میاں شہباز شریف نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے پرانے نیاز مند ہیں ۔جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان تنہا شہباز حکومت کے ملازم نہیں انکی بیٹی بھی شریف خاندان کے ذاتی کالج شریف میڈیکل کالج میں وائس پرنسپل ہیں ۔’’ذاتی نوکر کمیشن‘‘ کیا فیصلہ دے گا

ایک ماہ کے طویل انتظار کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔اس کمیشن سے وہی فیصلہ آئے گا جس کی کسی بھی نیاز مند سے توقع کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرل لیکس کو ایک ماہ گزر گیا اب کمیشن اپنے قیام کے ایک ماہ بعد رپورٹ وزیر اعظم کو دے گا اس کے بعد وزیر اعظم کی مرضی رپورٹ جاری کریں یا نہ کریں اس لئے اس سرل لیکس کمیشن پر بھی میرا تبصرہ ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ ہے۔انہوں نے کہاکہ جس ملک میں حکومت قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ بھی کھیل کھیلے اور کوئی ہاتھ روکنے والا نہ ہو تو اس ملک اور اسکے عوام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…