ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

سرل لیکس کمیشن کے سربراہ اور ان کی بیٹی کس کے ملازم ہیں؟طاہرالقادری نے بہت بڑا دعویٰ کردیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن /لاہور(این این آئی )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے اپنے ملازم کو سرل لیکس کمیشن کا سربراہ مقرر کئے جانے پر میں نیوز لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے ایک بار پھر کہوں گا ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے دعا گو بھی ہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور اسکے 19کروڑ عوام کی حفاظت کرے اس کے ساتھ ساتھ کرپٹ مقتدر ایلیٹ کے ہاتھوں بچ جانیوالے واحد ادارے فوج کی سلامتی کیلئے بھی دعا گو ہوں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لندن میں الیکٹرونک میڈیا کے پاکستانی نمائندوں اور سنیئر صحافیوں کے اعزاز میں دئیے جانیوالے عشائیہ کے موقع پر گفتگو ہوئے کیا ۔

اس موقع پر تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر حسن محی الدین، صدر یوکے خرم شہزاد، جنرل سیکرٹری عمرنوید، میڈیا کوارڈینیٹرآفتاب بیگ،شاہد مرسلین اورداؤد مشہدی بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ قوم کو دھوکہ دینے کیلئے ریٹائرڈ جسٹس کا نام استعمال کیا گیا یہ ریٹائرڈ جسٹس اس وقت پنجاب حکومت کے ملازم ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیئرمین ہیں جن کا تقرر میاں شہباز شریف نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے پرانے نیاز مند ہیں ۔جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان تنہا شہباز حکومت کے ملازم نہیں انکی بیٹی بھی شریف خاندان کے ذاتی کالج شریف میڈیکل کالج میں وائس پرنسپل ہیں ۔’’ذاتی نوکر کمیشن‘‘ کیا فیصلہ دے گا

ایک ماہ کے طویل انتظار کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔اس کمیشن سے وہی فیصلہ آئے گا جس کی کسی بھی نیاز مند سے توقع کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرل لیکس کو ایک ماہ گزر گیا اب کمیشن اپنے قیام کے ایک ماہ بعد رپورٹ وزیر اعظم کو دے گا اس کے بعد وزیر اعظم کی مرضی رپورٹ جاری کریں یا نہ کریں اس لئے اس سرل لیکس کمیشن پر بھی میرا تبصرہ ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ ہے۔انہوں نے کہاکہ جس ملک میں حکومت قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ بھی کھیل کھیلے اور کوئی ہاتھ روکنے والا نہ ہو تو اس ملک اور اسکے عوام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…