ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں ایڈز کیسے پھیلا؟ حیرت انگیز انکشافات،ہلاک شدگان کی تعداد13ہوگئی،سینکڑوں مریض سامنے آگئے

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاڑکانہ(این این آئی) لاڑکانہ میں ایچ آئی وی میں مبتلا ایک اور مریض چانڈکا اسپتال میں دم توڑگیا، رواں سال ایچ آئی وی میں مبتلا جان بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد 13 ہوگئی، ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں ذمہ دار قرار دینے والے غیرقانونی بلڈ بینکس اور لیباریٹریز کے خلاف مؤثر کاروائی نہ ہوسکی، ضلعی انتظامیہ نے اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤں کرتے ہوئے چالیس کلینکس سیل کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ کے چانڈکا اسپتال میں ایچ آئی وی میں مبتلا 30 سالہ مریض زاہد خاصخیلی دم توڑگیا ہے، جان بحق مریض کو گذشتہ روز شعبہ میڈیکل یونٹ ٹو میں تشویشناک حالت میں داخل کروایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد مریض کی لاش شہدادکوٹ کی تحصیل وارہ منتقل کی گئی اس واقعے کے بعد رواں سال ایچ آئی وی میں مبتلا جان بحق مریضوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے جبکہ مجموعی طور پر اس وقت تک ایچ آئی وی میں مبتلا 114 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی مجموعی تعداد 1400 تک جا پہنچی ہے۔ ادہر محکمہ صحت کی جانب سے ایچ آئی وی کے تیزی سے پھیلاؤ میں غیرقانونی لیبارٹریز، بلڈ بینکس اور اتائی ڈاکٹروں کی کلینکس کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا جس کے بعد صرف تین غیرقانونی بلڈ بینکس اور لیبارٹریز کو سیل کردیا گیا تھا جبکہ مزید کاروائی اچانک روک دی گئی جس کے بعد مؤثر کاروائی نہ ہوسکی۔ ادہر ضلعی انتظامیہ نے اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤں کرتے ہوئے ضلع بھر میں 40 کلینکس سیل کردیئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…