جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

جمعے کے روزبڑی خبر، سعودی عرب میں ایک بار پھر انصاف کا بول بالا صحابہ کرام اور احادیث کے بارے میں ایسی بات کرنے پر بڑا اقدام اٹھا لیا گیا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

الریاض(این این آئی)سعودی عرب میں ایک خصوصی فوجداری عدالت نے مختلف کیسوں میں ملوّث چار مقامی شہریوں کو قصور وار ثابت ہونے پر سات سے دس سال تک قید کی سزائیں سنادیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ان میں ایک سعودی کے ایران میں مطلوب ایک جرائم پیشہ شخص سے روابط تھے اور اس نے سعودی عرب کی سلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اس سے ملاقات بھی کی تھی۔دوسرے سعودی نے عراق میں عسکری تربیت حاصل کی تھی اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی حمایت کی تھی۔عدالت نے ان دونوں سعودیوں کو دس ،دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ان پر ایران کا سفر کرنے کا بھی الزام تھا جہاں انھوں نے ایک ایسے جرائم پیشہ شخص سے ملاقات کی تھی جو سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا چاہتا تھا۔یہ ایرانی مجرم بھی اس وقت گرفتار ہے۔اس نے دونوں سعودیوں کو عسکری تربیت حاصل کرنے پر آمادہ کیا تھا تاکہ بعد میں سعودی عرب کی سلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے تخریبی کارروائیاں کی جاسکیں۔ان دونوں مدعاعلیہان نے اس مجرم کی ترغیب پر عراق کا سفر کیا تھا اور وہاں عسکری تربیت کے کیمپوں میں مشین گنوں کو چلانے اور جوڑنے کی تربیت حاصل کی تھی۔اس کے بعد وہ سعودی عرب واپس آ گئے تھے لیکن انھیں وطن واپسی پر دھر لیا گیا تھا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ان کی قید کی سزا گرفتاری کے وقت سے شروع ہوگی اور رہائی کے بعد وہ مزید دس سال تک بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔فوجداری عدالت نے ایک اور سعودی شہری کو دہشت گرد تنظیموں کے زیر اثر آنے اور داعش میں شمولیت کے لیے شام جانے کا ارادہ رکھنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے اس کو منشیات استعمال کرنے کے جرم میں 80 کوڑے مارنے کا بھی حکم دیا ہے۔عدالت نے اس مجرم پر بھی قید کی مدت پوری ہونے پر رہائی کے بعد سات سال تک بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی ہے اور گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے برآمد ہونے والے سیل فون کو ضبط کر لیا ہے۔چوتھے سعودی مجرم پر یمن میں حوثی ملیشیا کی حمایت کا الزام تھا۔اس کے علاوہ اس نے مذہبی اصولوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی صحت اور ان کے صحابہ کے اقوال کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔یہ شخص سوشل میڈیا پر مختلف توہین آمیز بیانات پوسٹ کرتا رہتا تھا۔ عدالت نے اس کو چھے سال قید اور تیس ہزار سعودی ریال جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کی قید کی مدت کا بھی اس کی گرفتاری سے آغاز ہوگا۔عدالت نے اس کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کردیا ہے اور اس پر تاحیات اس کو استعمال کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔عدالت نے اس پر بھی رہائی کے بعد چھے سال تک بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…