ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کتنی قسم کی شراب تیارکرنے کی اجازت ہے ؟اقلیتوں کے ساتھ ساتھ کون مستفید ہورہاہے،حیرت انگیزانکشاف

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس میں اسلام کے احکامات کے مطابق شراب کی تیاری اورپیناحرام ہے لیکن پھربھی پاکستان میں شراب تیار کرنے والی تین فیکٹریوں کو قانونی طور پر ’’72‘‘ مختلف اقسام کی شراب تیار کرنے کی اجازت ہے۔ ان فیکٹریوں کی’’مصنوعات‘‘ سے اقلیتوں کی بجائے عملاً اکثریت ہی مستفیدہو رہی ہے جبکہ شراب کی تیاری اور فروخت سے پنجاب کو سالانہ تین ارب روپے ریونیو اکٹھا ہوتا ہے۔ شراب تیار کرنے کی لائسنس یافتہ تین فیکٹریاں مری بروری راولپنڈی، کراچی انڈس ڈسٹلری اینڈ بروری اور دی کوئٹہ ڈسٹلری کام کررہی ہیں۔ ان میں مری بروری راولپنڈی آٹھ مختلف گروپس کے تحت 36 اقسام، کراچی انڈس ڈسٹلری اینڈ بروری27جبکہ دی کوئٹہ ڈسٹلری11مختلف اقسام کے شراب تیار کرتی ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 8 بڑے ہوٹلوں جبکہ کراچی میں بڑے ہوٹلوں کے علاوہ 58دکانوں کو بھی شراب کی فروخت کے لائسنس حاصل ہیں۔ حدود آرڈیننس 1979 کے تحت غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکیوں کو شراب خریدنے کے لئے لائسنس/پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں محکمہ ایکسائز ہر سال تقریباََ 29ہزار افراد کو شراب کے پرمٹ جاری کرتا ہے۔ شراب کی تیاری اور فروخت سے پنجاب کو لائسنس فیس، لائسنس تجدید فیس، مینوفیکچرنگ فیس، ٹرانسپورٹیشن، سلی ہیڈ، ونڈ فیس اور پرمٹ فیس کی مد میں تین ارب روپے ریونیو اکٹھا ہوتا ہے۔ پاکستان میں آ ئین کے تحت صرف پرمٹ رکھنے والے غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکیوں کو ہی شراب کی فروخت کی اجازت ہے۔ مگر صورتحال یہ ہے کہ غیر مسلموںکے لئے شراب کی اجازت کی آئینی آڑ میں ان فیکٹریوں میں تیار ہونے والی شراب سے محکمہ ایکسائز کی ملی بھگت سے ’’اکثریت‘‘ ہی مستفید ہو رہی ہے۔ محکمہ ایکسائز، پولیس اور دیگر سرکاری محکمے ہوٹلوں سے شراب کی کھلے عام خرید وفروخت پر اپنا حصہ وصول کر کے چپ سادھے ہوئے ہیں۔عوامی حلقوں نے اس دوغلی پالیسی پرشدید احتجا ج کرتے ہوئے شراب کی مکمل بندش کامطالبہ کیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…