ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

نہتے پولیس کیڈٹس کو کس نے اور کیوں سنٹر میں روکے رکھا تھا ؟ کیڈٹس کی ٹریننگ سنٹر میں موجودگی کی خبر باہر کیسے گئی؟

datetime 25  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(ایکسکلوژ رپورٹ) کوئٹہ پولیس ٹریننگ سنٹر میں حملے نے کئی اہم ترین سوالا ت کو جن دیدیا۔ تفصیل کے مطابق حملے کے وقت ٹریننگ سنٹر مین 7 سو سے زائد کیڈٹس موجود تھے۔صرف دو رقز قبل ہی وہ کیڈٹس پاسنگ آؤٹ پریڈ سے فارغ ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اکیڈمی میں موجود کیڈٹس کو ایک سینئر پولیس آفیسر نے روک لیا تھا جبکہ پہلے سے یہ طے تھا کہ وہ کیڈٹس وہاں سے روانہ ہو جائیں گے۔ اکیڈمی میں موجود کیڈٹس مکمل طور پر نہتے تھے، رپورٹ کے مطابق حملے کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ کیڈٹس کو سنٹر میں کیوں روکے رکھا گیا اور یہ خبر باہر کیسے گئی۔ دہشتگردوں کو حملے میں معاونت کس نے فراہم کی تھی؟
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماجمشید اقبال چیمہ نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعہ کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں کی ساری توجہ اپنے محلات کو محفوظ بنانے پر مرکوزہے ،آئی جی کی طرف پولیس ٹریننگ کالج کی بیرونی دیواروں کو اونچاکرنے کیلئے باربارکی درخواستوں کے باوجود عملی اقدام نہ ہونا حکمرانوں کی نا اہلی اور غفلت کو ثابت کرتا ہے او راس کے ذمہ داروں کوضرور سزا ملنی چاہیے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان میں اپنے حصے کے نکات پر عملدرآمد نہیں کر رہی جو تشویشناک ہے۔حکمران کرپشن کرنے سے توجہ ہٹا کر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر یکسوئی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پولیس کے ٹریننگ کالج پر حملہ قومی سانحہ ہے ، ملک دشمنوں نے اس حملے کے ذریعے پاکستانی قوم کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انشا اللہ وہ اپنے عزائم میں ناکام رہیں گے۔ قوم ایسی کارروائیوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہو گی بلکہ ان سے تقویت لے کر مزید حوصلے اور بہادری کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑے گی۔ جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنے محلات کو محفوظ بنانے کیلئے کنکریٹ کی دیواروں پر قومی خزانے سے تو70کروڑ روپے خرچ کر دئیے لیکن حساس عمارت کی بیرونی دیواروں کو اونچا کرنے کیلئے ادار ے کے سربراہ کی بار بار کی درخواستوں کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا۔اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت اور نا اہلی کے ذمہ دار وں کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کو محفوظ اور خوشحال بنانا حکمرانوں کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں اور انہیں صرف اپنی ترقی اور خود کو محفوظ بنانے کی فکر ہے۔پی ٹی آئی ایسے غافل حکمرانوں سے نجات کیلئے ہی دو نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کر نے جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…