جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

حسد کے بجائے دعا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2016 |

حسد کے بجائے دعا
لطیفہ ہے کہ ایک غریب دیہاتی تها-وه معاشی اعتبار سے بہت پریشان رہتا تها-کسی شخص نے اس سے کہا کہ تم اکبر بادشاه کے پاس جاو-اس کے پاس بہت پیسہ ہے اور وه ہر مانگنے والے کو دیتا ہے-وه تم کو بهی ضرور دے گا اور تمہارا معاشی مسئلہ حل هو جائے گا-دیہاتی آدمی نے کہا کہ اکبر بادشاه کو کس نے دیا ہے-بتانے والے نے بتایا کہ خدا نے-دیہاتی نے کہا کہ پهر ہم بهی خدا ہی سے کیوں نہ مانگیں-هم اکبر سے کیوں مانگیں-

اس کے بعد وه ایک روز اپنے گهر سے نکلا اور سنسان جنگل کی طرف چلا گیا-وہاں جا کر اس نے اپنا میلا کپڑا زمین پر بچهایا اور اس پر بیٹهہ کر خدا سے دعا کرنے لگا-اس نے اپنی دیہاتی زبان میں کہا : اے اکبر کو دینے والے، مجهے بهی دیدے-وه اسی طرح دعا کرتا رہا-یہاں تک کہ جب وه فارغ هوا اور اس نے اپنا کپڑا اٹهایا تو اس کے نیچے اشرفیوں کی بهری هوئی تهیلی موجود تهی- یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ ہمارے بڑے بڑے دماغ اور اونچے پڑهے لکهے لوگ اپنے شعور اور کردار کے اعتبار سے اس سطح پر بهی نہیں ہیں جہاں مزکوره دیہاتی آدمی تها-

آج یہ حالت ہے کہ جب بهی کوئی شخص یہ دیکهتا ہے کہ دوسرا آدمی اس سے بڑهہ گیا ہے، خواه یہ بڑهنا مال کے اعتبار سے هو یاحیثیت کے اعتبار سے، تو فورا وه حسد میں مبتلا هو جاتا ہے-اس کے سینے میں بڑهنے والے آدمی کے خلاف نفرت اور جلن کی کبهی نہ ختم هونے والی آگ بهڑک اٹهتی ہے-حسد اور جلن میں مبتلا هونے والے لوگ اگر یہ سمجهیں کہ کسی کو جو کچهہ ملا ہے وه خدا کے دیئے سے ملا ہے، وہی کم بهی دیتا ہے اور وہی زیاده بهی دیتا ہے،تو وه بهی وہی کریں جو مزکوره دیہاتی نے کیا- وه پانے والے انسان کے بجائے دینے والے خدا کی طرف دوڑیں- وه خدا کو پکارتے هوئے کہیں کہ جس طرح تونے میرے بهائی کو دیا ہے اسی طرح تو مجهے بهی دیدے-اگر لوگوں میں یہ مزاج آ جائے تو سماج کی تمام برائیاں اپنے آپ ختم هو جائیں-
کسی کی بڑائی کو دیکهہ کر اپنی کمی کا احساس ابهرنا بذات خود ایک فطری جذبہ ہے- اس جذبہ کا رخ اگر خدا کی طرف هو تو وه صحیح ہے اور اگر اس کا رخ آدمی کی طرف هو تو غلط-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…