مجھے ایک بار کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا، جس بس میں میں سوار ہوا، وہ مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ میری قسمت اچھی تھی کہ، جس سیٹ کے پاس میں کھڑا تھا اُس مسافر کو کوئی کام یاد آ گیا اور وہ سفر کے آغاز میں ہی اُتر گیا۔ میں جھٹ سے اُس خالی سیٹ پر بیٹھ گیا، اِردگرد کے لوگ مجھے بہت خوش قسمت تصور کر رہے تھے، کیونکہ مجھے اُنکے بعد میں آ کر بھی سیٹ مل گئی تھی۔
ابھی بس شہر سے باہر نکلی ہی تھی کہ ایک خاتون بس میں سوار ہوئی۔ وہ بیچاری دروازے سے ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ میرے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی، مجھے بہت غصہ آیا کہ اُسے کسی نے سیٹ آفر نہیں کی۔ لیکن جیسے ہی وہ میرے پاس آ کر کھڑی ہوئی، میں نے ایک لمحے کی دیر کیے بغیر اپنی سیٹ اُسے پیش کر دی۔ اگرچہ سفر بہت لمبا تھا، لیکن مجھ سے برداشت نہ ہوا کہ میری ماں بجا ایک ضعیفہ خاتون کھڑی ہو اور میں بیٹھا رہوں۔
اِس بات کو کوئی دو مہینے گزرے ہونگے کہ ایک بار مجھے اپنی والدہ کے ساتھ کہیں جانا پڑا۔ ہم بس میں سوار تو ہو گئے، لیکن اندر جا کر جب ساری بس پر طائرانہ نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ کوئی بھی سیٹ خالی نہیں تھی۔ قبل اِسکے کہ میں بس سے اُترنے کیلئے کنڈیکٹر کو کہہ کر بس رکواتا، میری بغل میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب اُٹھے اور مجھے بولے، “بیٹا! اماں جی کو یہاں بیٹھا دو۔۔۔!” میں نے شکریے کے ساتھ انہیں منع بھی کیا لیکن انہوں نے مسکراتے ہوئے جو بات کہی اُس سے مجھے دو مہینے پہلے کا ایک سین یاد آ گیا۔۔۔۔!
وہ صاحب بولے۔۔۔۔!
“آج ہم کسی کیلئے جگہ چھوڑیں گے تو کل کو کوئی ہمارے لیے چھوڑے گا۔۔۔!



















































