جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ویزے کے بغیر سعودی شہری کو پاکستان انٹری مہنگی پڑگئی ، زبردست اقدام اٹھا لیا گیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )بغیر ویزہ پاکستان آنے والے سعودی شہری کو بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ، نجی ایئرلائن کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے سعودی شہری فارس حسن محمد کو بغیر ویزہ اسلام آباد پہنچنے پر روک لیا۔ سعودی شہری نجی ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا تھا۔ امیگریشن حکام نے مسافر کو بے دخل کرنے کیلئے ایئرلائن انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے جبکہ بغیر ویزہ مسافر کو پاکستان لانے پر نجی ایئرلائن کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے بینظیر ایئرپورٹ پر نامکمل دستاویزات کے باعث دو مسافر آف لوڈ کر دیئے گئے۔ سائپرس جانے والی خاتون مسافر صنم رانی کو کنفرمیشن لیٹر نہ ہونے جبکہ جنوبی افریقہ جانے والے مسافر محمد شفیق کو ویزہ تصدیق نہ ہونے پر آف لوڈ کیا گی۔
دوسری جانب ایک انیس سالہ سعودی نوجوان کو جیل کی ہوا کھانے کے بعد اللہ یاد آیا ہے اور اس نے اپنے کیے پر کھلے عام ندامت کا اظہار کردیا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق اس سعودی نوجوان سے یہ گناہ سرزد ہوا تھا کہ وہ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی ایک امریکی لڑکی سے انٹرنیٹ پر چیٹ کرتا رہا تھا۔اس کی شناخت ابو سِن ( بے دانت) کے عرفی نام سے کرائی گئی ہے۔اس کی انٹرنیٹ کے ذریعے منظرعام پر آنے والی ویڈیو کا دورانیہ صرف ایک منٹ ہے۔اس میں وہ کہہ رہا ہے کہ اس کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔سعودی نوجوان نے بتایا کہ وہ ایک امریکی لڑکی کرسٹینا کروکٹ سے چیٹ کرتا رہا تھاپھر اس نے اس تمام گفتگو کی ویڈیوز یو نو پروگرام پر پوسٹ کردی تھیں۔سعودی دارالحکومت الریاض کی پولیس نے اس کو اس غیر شائستہ حرکت اور مذہبی اقدار کو پامال کرنے پر پکڑ لیا اور اس کو جیل بھیج دیا تھا۔اس کو ایک ہفتے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے لیکن وہ ابھی اس مقدمے سے مکمل برّی نہیں ہوا ہے اور سعودی قانون کے تحت اگر وہ قصور وار ثابت ہوجاتا ہے تو اس کو پانچ سال قید اور تیس لاکھ (سعودی ریال) تک جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…