جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

اگلی بار کرسی صدارت پر کون براجمان ہوگا ؟ معروف صحافی کی دھماکہ خیز پیشن گوئی سامنے آگئی  

datetime 9  اکتوبر‬‮  2016 |

فیصل آباد(آن لائن ) وزیر اعظم کے مشیر اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے وفاقی وزیر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کریگی اورانشاء اللہ 2018کے انتخابات پھر مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہو گی،2018ء کے انتخابات کی صف بندیا ں شروع ہو گئی ہیں، سیاسی احتجاج آئین و قانون کی حدود میں ہونا چائیے ،عمران خان اپنے سیاسی مفاد کے لیے قومی مفاد سے کھیل رہے ہیں تین سال سے جاری دھرنوں اور سڑکوں کی سیاست چھوڑ کر انہیں نئے انتخابات کے لیے تیاری کرنی چاہیے ۔پی پی پی اور تحریک انصاف کی جنگ مستقبل میں اور زیادہ تیز ہوگی کیوں کہ مسئلہ اس ووٹ بینک کا ہے جو پی پی پی کو چھوڑ کر تحریک انصاف سے جا مِلا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے  فیصل آباد  میںیوتھ ونگ ضلع کے عہد یداروں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تین سال کے عرصے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے زندگی کے ہر شعبے میں مثبت تبدیلیاں کیں اس دوران دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا گیا قومی معیشت کو سنبھالا دیاگیا ،زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،ا توانائی کے نئے منصوبے شروع ہوئے ملک کے تما م حصوں میں شاہرائوں کی تعمیر کا آ غاز ہوا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ان کامرانیوں کو تسلیم کیا گیا عرفان صدیقی نے کہا کہ آج کا کراچی 2013کے کراچی  سے بہت مختلف ہے آج کا بلوچستان 2013کے بلوچستان سے بہت بہتر ہے اورقومی زندگی کے تما م شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے انہوں نے کہا کہ تمام منفی پروپیگنڈوں اور میڈیا کے ایک حصے کی منفی مہم کے باوجود عوام نے ہمیشہ سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا اور گذشتہ تین برس میں منعقد ہونے والے ہر سطح کے انتخاب میں مسلم لیگ کو کامیابی دی انہوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات کی صف بندیا ں شروع ہو گئی ہیں جسمیں ایک بار پھر پاکستان کی تعمیر و ترقی کا راستہ روکنے اور سیاست کو سٹرکوں کا کھیل بنا دینے والوں کو عبرتناک شکست ہوگی ۔بوزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ نواز شریف نے جس جراء ت مندی کے ساتھ کشمیری عوام کی اقوام عالم کے سامنے ترجمانی و نمائندگی کی ہے اور جس طرح بھارت کے حقیقی مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے اس کی مثال پوری قومی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے عرفان صدیقی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سیاسی احتجاج آئین و قانون کی حدود میں ہونا چائیے کیونکہ عوام کے  حقوق کی پاسداری کرنی بھی لازم ہو تی ہیں،  مریضوں کو ہسپتال لے جانے اور بچوں کو اپنی درسگاہوں تک پہنچنے کا بھی حق حاصل ہے اور تاجروں کو بھی اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے کاروبار جاری رکھ کر بچوں کی روزی کمائیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…