بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کاجنگی جنون بھی پاکستان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔۔۔! وطن عزیز نے اہم ترین سنگ میل عبور کرلیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت کی جارحیت کا جواب پاکستان کے بانڈز خرید کر غیرملکی سرمایہ کاروں نے دیدیا۔ پاکستانی اسلامی بانڈز میں ہدف سے چار گنا بڑھا۔ پچاس کروڑ ڈالر ٹارگٹ کے بجائے دو ارب چالیس کروڑ کی دیکھی گئی۔ حکومت نے ایک ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کر دئیے۔ ان بانڈز کی میعاد پانچ سال ہو گی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ان بانڈز پر شرح منافع کم ترین سطح پر ہو گا۔ پہلے بانڈز پر شرح منافع چھ سے آٹھ اعشاریہ 25 فیصد تھا جبکہ ان بانڈز پر شرح منافع 5.15 فیصد ہونے کی امید ہے۔
دوسری جانب چین کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ نیسڈک بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے شیئرز خریدنے کیلئے میدان میں آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیسڈک کا وفد مذاکرات کیلئے 7اکتوبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا دورہ کریگا۔نیسڈک اور برطانوی فنڈ نے مشترکہ طور پر شیئرز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔دوسری جانب چین کی شنگھائی اسٹاک مارکیٹ بھی پاکستان اسٹاک ایسکچینج کے شیئرز خریدنے کیلئے میدان میں موجود ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے شیئرزکی فروخت کا عمل نومبر تک مکمل ہونا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے ایم ڈی ندیم نقوی نے بتایا کہ شنگھائی اسٹاک ایکس چینج نے پاکستانی مارکیٹ کے اسٹرٹیجک شیئرز کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے جولائی میں 40 فیصد شیئر کی فروخت کے لئے پیشکشیں طلب کی تھیں۔ دلچسپی کا اظہار کرنے والی کمپنیوں کو 21 اکتوبر تک پیشکش جمع کرانی ہیں۔اسٹریٹجک شیئرز کی فروخت کے متعلق حتمی فیصلہ نومبر کے آخر تک کیا جائے گا۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج خطے کی بہترین مارکیٹ ثابت ہورہی ہے، انڈیکس میں رواں سال 25 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…