اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

ہندو سورماؤں کامسلمان خاتون کو قبر سے نکال کر ایسا شرمناک اقدام کہ جان کر خون کھول اٹھے گا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (ایکسکلوژو رپورٹ ) بھارت سے جنسی درندگی ، مسلمانوں اور نچلی ذات کے افراد کے قتل اور ظلم وبربریت کی خبریں توآتی ہی رہتی ہیں لیکن حالیہ واقعات نے بھارت کو ہلاکر رکھ دیاہے ،بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے ضلع غازی آباد میں تین نیچ ملزمان نے رات کی تاریکی میں26سالہ خاتون کی قبرکھودی اور لاش نکال کر گینگ ریپ کرکے انسانیت کے سرہی شرم سے جھکادیئے ہیں۔ جنسی تسکین کے بعد انسانوں کی شکل میں موجود ’بھیڑیوں‘ نے لاش کو برہنہ حالت میں وہی چھوڑ دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق گاؤں تلہیٹہ رہائشیوں نے اگلی صبح خاتون کی لاش قبر سے تقریباً20فٹ دوربالکل برہنہ دیکھی اورپھر متعلقہ خاندان کے لوگوں کو مطلع کیا جنہوں نے پھر پولیس کو اطلاع کردی ، پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردیں۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کی لاش قبر سے نکالنے کے بعد اس کیساتھ گینگ ریپ کیاگیاتاہم ملزمان کی گرفتاری کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق جنسی ہوس بجھانے کیلئے درندوں نے محض ڈیڑھ گھنٹے میں ہی ساڑھے چارفٹ گہری قبر کھود ڈالی اور توقع کی جاتی ہے کہ اس واقعے میں تین لوگ ہی ملوث ہیں ، اس واقعہ پر نہ صرف خاندان بلکہ گاؤں کے لوگوں نے بھی سخت آزادنہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔خاندانی ذرائع کے مطابق خاتون بچے کی پیدائش کے دوران دوروز قبل انتقال کرگئی تھی۔
اس سے قبل بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک پانچ سالہ لڑکی کو اغوا کرکے اسے مبینہ طور پر کئی دنوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس کی چیخ سن کر ایک راہ گیر نے اسے بچایا۔ اسے سوموار کو اغوا کیا گیا تھا۔ لڑکی کو مقامی دیانند ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی حالت تشویشناک حد تک نازک ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پراس لڑکی کے ایک پڑوسی نے چار دن قبل اسے اغوا کر لیا تھا اسے جنسی تشد کا نشانہ بنایا۔بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سوامی دیانند ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ آر این بنسل نے کہا ہے کہ انہوں نیکسی پانچ سالہ لڑکی کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک پہلی بار دیکھا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس کے ہونٹوں اور رخسار پر زخموں کے نشان ہیں جبکہ اس کے گلے پر بھی زخم ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسکا گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جب وہ ہسپتال میں داخل کی گئی اس وقت اس کا بلڈ پریشر کم تھا اور اسے بخار بھی تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دہلّی کی ایک چلتی بس میں ریپ کے واقعے اور اس کے نتیجے میں متاثرہ کی موت کے بعد دارالحکومت میں مظاہروں کے ذریعے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ملک میں خواتین کے تئیں سماجی رویے پر پرزور بحث چھڑ گئی۔اس واقعے کے بعد ریپ کے تعلق سے بنے پرانے قوانین میں ترمیم کی گئی تاہم یہ معاملہ اس ضمن ایک نیا بہیمانہ واقعہ ہے۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…