اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ایک ایسے ملک کے عوام بھارت کیخلاف سڑکوں پرنکل آئے کہ جان کر دنگ رہ جائیں گے‘ بڑی وجہ بھی سامنے آ گئی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ بھیانک جرائم معمول کی بات بن چکے ہیں۔ کبھی کسی غیر ملکی خاتون کو اغوا کیا جاتا ہے تو کسی کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ شیطان صفت بھارتی مجرم ان جرائم کے عادی ہو چکے ہیں مگر حال ہی میں جب افریقی ملک کانگوسے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو بھارت میں وحشیانہ طریقے سے قتل کیا گیا تو اس کے جواب میں کانگو کے شہریوں نے بھی اپنے ملک میں بسنے والے بھارتی شہریوں کی زندگی کو دردناک عذاب میں بدل دیا۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سنتھیا ویچل نامی خاتون کا تعلق کانگو سے تھا اور وہ حیدرآباد شہر میں اپنے بھارتی شوہر کے ساتھ مقیم تھیں۔ اس بدبخت بھارتی شخص نے اپنی افریقی بیوی پر بدچلنی کا الزام لگا کر اسے قتل کیااور اس کے جسم کے ٹکڑے کر ڈالے۔جب اس حیوانیت کی خبر کانگو میں پہنچی تو ظلم کا نشانہ بننے والی سنھیا کے ہم وطن غصے سے بے قابو ہو گئے۔ کانگو کے نوجوانوں نے گروہوں کی شکل میں جمع ہو کر بھارتی شہریوں پر حملے شروع کر دیئے۔ رپورٹ کے مطابق کانگو میں کپڑے ، کاسمیٹکس برقی آلات جیسے کئی کاروبار شعبے میں بھارتی شہریوں کا غلبہ ہے۔ کانگو کے لوگوں نے ان بھارتی شہریوں کی دکانوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں اور کئی بھارتی شہریوں کو مشتعل ہجوم نے سرعام ہلاک کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ کانگو میں بسنے والی بھارتی خواتین کی عزتیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک مشتعل ہجوم میں شامل راڈری گو نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ کانگو کے لوگ بھارت میں سفاکانہ طریقے سے قتل کی گئی اپنی بہن کا بدلہ ضرور لیں گے۔کانگو کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری صورتحال کو فسادات کا نام نہیں دیا جاسکتا البتہ بھارتی شہریوں اور ان کی املاک پر متعدد حملے کیے جاچکے ہیں۔ حکومت صورتحال پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہے لیکن بھارتی شہریوں کے خلاف کانگو کے عوام کا غصہ کسی طور کم ہوتا نظر نہیں آتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…