بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

’’بھارت پاکستان دشمنی میں پاگل ہو گیا‘‘ پاکستان پر الزام جھوٹ ثابت‘ اپنا فوجی آپ ہی مار ڈالا

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی ایک اور سازش ناکام ،بارہ مولا میں فوجی کیمپ پر حملے میں سیکورٹی اہلکار کی ہلاکت کا پاکستان پر الزام جھوٹا نکلا،بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بی ایس ایف کے اہلکار کی بارہ مولا میں ہلاکت ’’فرینڈلی فائر ‘‘ کا نتیجہ تھی جبکہ بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی افواج کی جانب سے مظالم کے نتیجے میں کشمیریوں کو رد عمل روکنا ممکن نہیں، حملے بھی کسی صورت نہیں روکے جاسکتے،ایک ایسے وقت میں جب بھارتی حکومت اور فوج پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں فوجی کیمپ پر حملے کے دوران بی ایس ایف کے اہلکار کی بارہ مولا میں ہلاکت ’’فرینڈلی فائر ‘‘ کا نتیجہ تھی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بارڈر سکیورٹی فورسز کے سربراہ نے ناکامی کا بڑا اعتراف کرلیا ہے۔ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کرشن کمار شرما کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی جانب سے ہونے والے حملے روکنا ان کی فورسز کے لئے ممکن ہی نہیں۔بھارتی صحافیوں نے سوال کیے کہ سر بتائیں بارہ مولا میں کیا ہوا؟ وہاں بی ایس ایف کانسٹیبل کیسے مار اگیا ؟ انڈین آرمی بہتر پوزیشن میں ہے کہ بتائے بی ایس ایف جوان کیسے مارا گیا،نیتن کمار آپ کا کانسٹیبل تھا آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کیسے مارا گیا ؟ اس پر ڈی جی بی ایس ایف کے کے شرما نے اس پر کہاکہ مشکو ک حرکت دیکھ کر نتین چوکنا ہوا تو اس پر فائر ہوا پھر اسکی ٹانگ کے پاس بم پھٹا۔ایک صحافی نے پوچھا کوئی عینی شاہد ہے کس نے گولی چلائی ؟کہاں سے گولی آئی ؟ اس پر کے کے شرما نے کہاکہ رات ساڑھے دس بجے گہرا اندھیر ا تھا نہیں دیکھا کہ گولی کہاں سے چلی۔صحافی نے سوال کیا کہ ڈی جی صاحب میڈیا کہہ رہا ہے کہ نتین فرینڈلی فائر سے مرا اس پر ڈی جی نے کہاکہ بہت کنفیوژن ہے کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ بتا سکے کہ گولی کس نے اور کہاں سے چلائی۔ یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جہاں بھارتی مظالم انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں وہیں ان مظالم پر عوامی رد عمل بھی انتہائی شدید ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…