جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

جس کا خدشہ تھا وہی ہوا ۔۔۔ چھوٹو گینگ بارے اہم خبر آگئی

datetime 3  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے چھوٹو گینگ سے متعلق رپورٹ مرتب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو غلام رسول چھوٹو کے دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور کسی بڑی سیاسی جماعت سے رابطوں کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ کچھ دن میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلام رسول چھوٹو اور اس کے 16 ساتھی خطر ناک جرائم پیشہ افراد ہیں، غلام رسول چھوٹو کے خلاف قتل سمیت ستانوے مختلف مقدمات پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں درج ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ چھوٹو گینگ کی طرح باقی گروپوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور اس کے لیے علاقے میں پولیس کو جدید اسلحہ اور خصوصی اختیارات دیے جائیں ۔ واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ اس گینگ کی پشت پناہی سیا سی حلقوں کی جانب سے کی جاتی ہے تاہم تازہ تحقیقاتی رپورٹ نے اس بات کو جھٹلایا ہے ۔
دوسری جانب راجن پور میں جاری آپریشن کے دوران چھوٹو گینگ سے وابستہ عطااللہ پٹ گینگ کے سربراہ سمیت 4 کارندوں نے بھی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے جس کے بعد ہتھیار ڈالنے والے گینگسٹرز کی تعداد17 ہو گئی ۔پاک فوج اور پنجاب پولیس نے دریائی علاقے کچا جمال کو جرائم پیشہ افراد سے صاف کرنے کےلئے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔آپریشن کے 23ویں دن 2 روز قبل چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو نے12 ساتھیوں سمیت فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے ۔اغواءکیے گئے 24 پولیس اہلکاروں کو بھی رہا کر دیا گیا تھا۔مقامی افراد کے مطابق فوج کی جانب سے گینگسٹرز کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے شیلنگ کی گئی تھی، شیلنگ سے گینگسٹرز کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں میں راجن پور کے موضع کچھی عمرانی کے ایک اور گینگ کا سربراہ عطاءاللہ پٹ اور اس کے 3 ساتھی شامل تھے۔عطاءاللہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ بھی اغواءبرائے تعاوان کی کئی وارداتوں میں ملوث تھا جبکہ اس کے خلاف بھی راجن پور اور قریبی علاقوں میں کئی مقدمات درج ہیں۔حکام نے بتایا کہ عطاءاللہ چھوٹو گینگ کا باقاعدہ رکن نہیں تھا بلکہ وہ 14 اپریل کو پولیس کی فائرنگ سے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو کی ہلاک ہونے والی بھتیجی کی تعزیت کرنے کےلئے اس علاقے میں گیا تھا تاہم فوج کا آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ یہ علاقہ چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…