جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

واہگہ بارڈر،پرویزخٹک سمیت رینجرز کے اعلیٰ حکام بھی پہنچ گئے،اللہ اکبر کے نعرے،بھارت کی جانب حیرت انگیز صورتحال

datetime 1  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور (این این آئی )بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات کے بعد پاکستان کے ہزاروں شہریوں نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی پر وقار تقریب میں پاکستان رینجرز کے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے شرکت کو اپنا معمول بنا لیا،وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ خیبر پختوانخواہ سمیت رینجرز کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ پاکستان کا پریڈ وینیو نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، پاکستان زندہ باد ، جیوے جیوے پاکستان کے بلند شگاف نعروں سے گونجتا رہا ۔تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پر ویزخٹک نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہنے کیلئے بنا ہے ، یہ قائم ہے اور رہے گا ۔دشمن کی بڑھکیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑسکتیں،پاکستان کی خاطرجو بھی کرنا پڑا کریں گے۔ شہادت سے بڑھ کر کوئی جذبہ نہیں اور پاکستان کا بچہ بچہ اپنے اندر یہ جذبہ رکھتا ہے ، پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کر تے ہیں ۔ پاکستان رینجرز اور عوام کا جو جذبہ واہگہ بارڈرپر دیکھا و ہ قابل دید ہے لیکن بارڈر کے دوسری طرف خالی سٹینڈز سے لگتا ہے کہ بھار ت گھبرا گیا ہے اور بہت زیا دہ ڈر گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا جلسہ پاک بھارت کشیدگی بڑھنے سے کئی روز پہلے ہی شیڈول تھا ، یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ عمران خان نے اس جلسے میں لا کھوں لو گوں کے ساتھ مل کردشمن کو للکارا ہے ،جلسے کا صرف دو نکاتی ایجنڈا تھا ۔ پر ویز خٹک نے کہاکہ اگر جمہوریت چوری ، ڈاکہ اورلو ٹنے کا نام ہے تو ایسی جمہوریت پر لعنت ہے اس سے اچھی آمریت ہے ، اگر چوروں کو پکڑنے کے قوانین بنائے گئے ہیں تو اس پر عمل بھی ہونا چاہیے،وزیر اعظم جس طرح سے اتنے طویل عرصے سے احتساب سے چھپنے کی کو شش کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ چورکی ڈاڑھی میں تنکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ چوروں اور ڈاکوؤں سے سوال کرے، سچی بات ضرور کرنی چاہیے اورچوروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، جمہوریت میں ہر حکمران عوام کو جوابدہ ہوتا ہے، حکمرانوں کا اپنا سارا پیسہ بیرون ملک ہے اور یہ بیرون ممالک کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کا ری کر و ، یہی تو وجہ ہے کہ بیرون ممالک یہاں سرمایہ کا ری نہیں کر رہے،یہ ملک صرف چوروں اور ڈاکوؤں کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…