لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رائے ونڈ میں ممکنہ دھرنے کو روکنے کیلئے دائرمتفرق درخواستوں پر فیصلہ آج ( جمعرات ) تک محفوظ کر لیا۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے قائمقائم چیف جسٹس جسٹس شاہد حمید ڈار کی سر براہی میں جسٹس محمد انوارالحق اورجسٹس محمد قاسم خان پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار اے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عمران خان اپنی تقاریر میں نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں ،عمران خان اور تحریک انصاف کی بے ضابطگیوں کے باعث انکی پارٹی کے سینئر رہنما جسٹس (ر) وجیہہ الدین استعفیٰ دے چکے ہیں۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدلیہ کو عام آدمی کی جان و مال اور عوامی املاک کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ احتجاجی مارچ کے بعد بھی تو حتمی فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے پھر مارچ کیوں کیا جارہا ہے ؟، عدالت کو آگاہ کیا جائے تحریک انصاف کے مارچ کا کیامقصد ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے موقف اپنایا گیا کہ تحریک انصاف آئینی حدود کے اندر رہ کر احتجاج کرنا چاہتی ہے ۔پانامہ لیکس کے معاملے پر حکومت پر الزامات ہیں ،ہم نے ہر فورم سے رجوع کیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔مارچ کو پرامن رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں ،اس میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا۔اگر کنٹینرز اوررکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں تو عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑئے گا اور احتجاج بھی پرامن ہو گا۔ہر فورم سے مایوسی کے بعد ہم اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہوئے عام آدمیوں کو اپنے موقف سے آگاہ کرنے جارہے ہیں،پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مارچ روکنے کی بجائے امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ د اری دی جائے تو مارچ پر امن رہے گا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ گزشتہ دھرنے کے وقت تحریک انصاف کے کارکن اسلام آباد میں ریڈ زون میں داخل ہوئے ،قومی ٹیلی وژن کی عمارت میں داخل ہوئے ،پارلیمنٹ میں گھسنا چاہتے تھے ،وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کیا گیا،دھرنے کی وجہ سے چینی صدر پاکستان نہیں آ سکے اورپوری دنیا پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی،اگر یہ رائیونڈ میں اڈا پلاٹ جائیں گے تو وہاں کس جگہ پڑاؤ کریں گے اور کس طرح اپنی حدود کا تعین کریں گے۔فاضل عدالت نے ریماکس ئیے کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی رٹ درخواست پر اعتراض ختم کر دیا ہے ،عدالت عظمیٰ کے فیصلے تک احتجاج روکنے کی تجویز پر کیوں غور نہیں کیا جا رہا۔ سپریم کورٹ ملک کا سب سے اعلی اور بڑا فورم ہے،عدالت عظمی کے تین ججز پر مشتمل فل بنچ پانامہ لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا پھر احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے۔مارچ کے بعد بھی تو حتمی فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے ۔سماعت کے دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران بھی عدالت میں موجود تھے جنہوں نے اپنے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔فاضل عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو آج جمعرات صبح ساڑھے دس بجے سنایا جائے گا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سکول مزید 4 دن بندحکومت کا ایک اور اہم فیصلہ سامنے آ گیا
-
پنجاب بھر میں سکولوں بارےاہم نوٹیفکیشن جاری
-
خوشخبری ،نئے گھریلو گیس کنکشن کے لیے اہم اعلان
-
مسلم لیگ (ن)کو ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی دھچکے کا سامنا
-
پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان
-
عرب ممالک نے پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی
-
شدید سردی کی لہر؛سکولوں میں مزید چھٹیوں سے متعلق حکومت کا اہم بیان
-
محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کس کے کہنے پر بنایا گیا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
روس،14ہزار سال سے برف میں منجمد بھیڑیے کے بچے کے پیٹ میں ملنے والی غذا نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا
-
چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے
-
اقرار الحسن کی سیاسی جماعت کا نام اور پارٹی پرچم سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
-
مذاق کرنا ہے تو اپنی ناکام شادی پر کریں: بشریٰ انصاری کے طنز پر جاوید شیخ کا کرارا جواب
-
موسم کا نیا سسٹم داخل، شدید سردی، بارش اور برفباری کی پیش گوئی
-
شاہد آفریدی کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل، وجہ کیا بنی؟















































