جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہم سمجھے کہ کمپیوٹر نے غلطی کی ہے مگر آپ تو۔۔۔ پاکستان کے تیز رفتار کھلاڑی کی انتہائی دلچسپ کہانی

datetime 27  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اصلاح الدین کا شمار اپنے وقت کے تیز ترین فاروڈز میں ہوتا تھا اور 1972 کے میونخ اولمپکس میں کمپیوٹر سے ان کی رفتار ناپی گئی تھی۔اصلاح الدین کو آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ان کی جو رفتار سامنے آئی تو ماہرین حیران رہ گئے تھے اور اسی وجہ سے ان کا ڈوپ ٹیسٹ بھی ہوا تھا۔’جس زمانے میں میں کھیل رہا تھا اس وقت دنیا کی ہر ٹیم کے پاس پنلٹی کارنرز پر تیز ہٹ لگانے والے کھلاڑی ہوا کرتے تھے ان میں پال لٹجنز، کراؤزے، مائیکل پیٹر، کک اور مکھ بین سنگھ قابل ذکر تھے۔‘میں تیزی سے ڈیش کرتا ہوا گیند کو درمیان میں ہی حاصل کرکے ان کے پنلٹی کارنرز ناکام بنا دیا کرتا تھا۔ میں نے میونخ اولمپکس میں مکھ بین سنگھ کے تمام ہی پنلٹی کارنرز اور کارنرز ناکام بنائے بلکہ ایک پنلٹی کارنر پر ان کی تیز ہٹ سے میری ہاکی سٹک بھی ٹوٹ گئی لیکن مکھ بین سنگھ اس میچ میں ایک بھی گول نہ کرسکے۔‘اصلاح الدین کہتے ہیں کہ ٹیم سیمی فائنل میں بھارت کو دو گول سے ہراکر فائنل میں پہنچ گئی تھی جہاں مقابلہ مغربی جرمنی سے ہونا تھا۔ ٹیم جشن منارہی تھی لیکن انھیں ڈوپ ٹیسٹ کے لیے میڈیکل پینل کے سامنے پیش ہونا پڑا تھا۔’میچ کے فوراً بعد مجھے کہا گیا کہ آپ کا ڈوپ ٹیسٹ ہونا ہے۔ یہ صورتحال میرے لیے نئی تھی کیونکہ اس سے قبل انٹرنیشنل ہاکی میں شاید ہی کسی کھلاڑی کا ڈوپ ٹیسٹ ہوا ہو۔ کافی دیر تک چھ جرمن ڈاکٹرز کا پینل آپس میں گفتگو کرتا رہا اور پھر انھوں نے مجھے جانے کی اجازت دے دی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس میچ میں 22 کھلاڑی کھیل رہے تھے آپ نے مجھے ہی کیوں ڈوپ ٹیسٹ کے لیے منتخب کیا جس پر ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ آپ جب ڈی میں پنلٹی کارنرز کو روکنے کے لیے دوڑتے تھے تو آپ کی سپیڈ انتہائی غیرمعمولی تھی۔کمپیوٹر سے سپیڈ معلوم کی گئی تو کمپیوٹر نے یہ سپیڈ گیند سے دگنی بتائی۔ ہم سمجھے کہ کمپیوٹر نے غلطی کی ہے لیکن جب کمپیوٹر نے دوبارہ یہی سپیڈ بتائی تو پتہ چلا کہ کمپیوٹر صحیح ہے اسی لیے آپ کو ڈوپ ٹیسٹ کے لیے منتخب کیا گیا۔‘اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے پورے کریئر میں صرف ایک بار خطرناک چوٹ لگی تھی لیکن وہ دانستہ تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…