پورٹ فولیو
بادشاہ نے سیر کےلئے جانا تھا‘ موسمیات کے وزیر کو بلایا گیا‘ وزیر نے ڈی جی موسمیات سے موسم کا حال پوچھا‘ موسم خوش گوار تھا‘ بادشاہ کو بتایاگیا‘ آپ اور ملکہ عالیہ سیر کےلئے جا سکتے ہیں‘ موسم اگلے تین دن خوش گوار رہے گا‘ شاہی خاندان سیر کےلئے روانہ ہو گیا‘ راستے میں کمہاروں کی بستی تھی‘ بادشاہ نے دیکھا کمہار اپنے کچے برتن سمیٹ رہے ہیں‘ بستی میں افراتفری مچی ہوئی ہے‘ بادشاہ نے کمہاروں کے سردار کو بلایا‘ ماجرا پوچھا‘ سردار نے جواب دیا ”حضور بارش آنے والی ہے‘ ہم بارش سے پہلے پہلے برتن سمیٹنا چاہتے ہیں“ بادشاہ کو غصہ آ گیا‘ وہ چلا کر بولا ”او نادان کمہار‘ میرا وزیر موسمیات ہارورڈ یونیورسٹی کا فارغ التحصیل ہے‘ ہمارے محکمہ موسمیات کے پاس جدید ترین آلات ہیں‘ وہ کہتے ہیں ملک میں تین دن موسم خوش گوار رہے گا اور تم جاہل‘ نالائق کمہار بارش کا دعویٰ کر رہے ہو‘ تم ہوتے کون ہو“ کمہار ڈر گیا‘ وہ ابھی جواب سوچ ہی رہا تھاکہ اچانک خوفناک بارش شروع ہو گئی‘ شاہی خاندان اپنے شاہی سازوسامان کے ساتھ بھیگ گیا‘ بادشاہ شرمندہ ہوگیا‘ اس نے کمہاروں کے بوڑھے سردار کو ساتھ لیا اور بھیگتا نچڑتا ہوا دارالحکومت واپس آگیا‘ وزیر موسمیات کو بلایا‘ کمہاروں کے سردار کے ساتھ کھڑا کیا‘ وزیر کو ڈانٹ پلائی‘ اسے وزارت سے فارغ کیا اور کمہاروں کے سردار کو وزیر موسمیات بنا دیا‘ کمہار شرمندہ شرمندہ آگے بڑھا‘ کورنش بجا لایا‘ جان کی امان طلب کی اور عرض کیا ”جناب بارش کی پیش گوئی میں میرا کوئی کمال نہیں تھا‘ یہ میرے گدھے کی مہربانی تھی“ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا ”کیسے“ کمہار بولا ”حضور میں بچپن سے دیکھ رہا ہوں‘ میرے گدھے کے کان جب بھی مرجھا کر نیچے گرتے ہیں اس دن خوفناک بارش ہوتی ہے‘ آپ جب تشریف لائے تو میرے گدھے کے کان لٹک رہے تھے لہٰذا میں نے اپنے لوگوں کو برتن سمیٹنے کا حکم دے دیا‘ بس اتنی سی بات تھی“بادشاہ نے قہقہہ لگایا‘ اپنا حکم واپس لیا اور کمہار کے گدھے کو موسمیات کا وزیر بنادیا‘ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے دنیا بھر میں موسمیات کا پورٹ فولیو ہمیشہ گدھوں کو عنایت کیا جاتا ہے۔
پانامہ لیکس
پاگل بھاگ کر دیوار پر چڑھ گیا‘ پاگل خانے کا عملہ پاگل کو نیچے اتارنے کی کوشش کرنے لگا‘ پاگل کو مختلف ترغیبات دی گئیں‘ اسے پاگل خانے کا صدر بنانے کی پیش کش کی گئی‘ اسے واپس گھر بھجوانے کی ترغیب دی گئی‘ اسے اچھے کھانے کا دانا ڈالا گیا اور اسے ”کچھ نہیں کہا جائے گا“ کی گارنٹی بھی دے دی گئی لیکن پاگل دیوار سے اترنے کےلئے تیار نہیں ہوا‘ انتظامیہ تھک گئی اور اس نے دیوار میں کرنٹ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا لیکن عین وقت پر ایک دوسرا پاگل آگے بڑھا‘ ڈاکٹر سے اجازت لی اور دیوار پر بیٹھے پاگل کو چھوٹی سی قینچی دکھا کر اونچی آواز میں بولا ”اوئے نیچے اتر جا نہیں تو میں اس قینچی سے دیوار کاٹ دوں گا“ دیوار پر بیٹھا پاگل فوراً نیچے کود گیا‘ پاگل خانے کے عملے نے اسے دبوچ لیا‘ ڈاکٹر اس عجیب و غریب تکنیک پر حیران ہو ا‘ وہ دیوار سے کودنے والے پاگل کے پاس گیا اور اس سے کہا ”ہم سارا دن تمہاری منتیں کرتے رہے لیکن تم نیچے نہیں آئے اور اس پاگل نے تمہیں دو انچ کی قینچی دکھائی اور تم نیچے آ گئے‘ کیوں؟“ پاگل نے سنجیدگی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ”جناب میں جانتا ہوں یہ پاگل ہے‘ یہ اگر پاگل پن میں واقعی دیوار کاٹ دیتا تو میں تو اوپر ہی لٹکا رہا جاتا“۔
سزا
جانوروں نے فیصلہ کیا‘ ہم میں سے جو جانور جنگل کا قانون توڑے گا ہم اسے آج سے انسان کہیں گے‘بندر نے احتجاجاً ہاتھ کھڑا کر دیا‘ شیر نے غصے سے پوچھا ”کیوں کیا تکلیف ہے“ بندر بولا ”جناب جرم چھوٹا ہے لیکن سزا زیادہ ہے“۔
قربانی
بکرے نے اپنی ماں سے پوچھا ”مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی“ ماں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ بکرا بولا ”انسان اپنی ہر غلطی کے تاوان میں ہمیں کیوں ذبح کر دیتے ہیں“ ماں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”کیونکہ یہ اپنی غلطیاں ترک نہیں کرنا چاہتے“ بکرے نے ہاں میں گردن ہلائی اور بولا ”انسان اگر غلطیاں کرنے کی خو بدل لے تو اسے عمر بھر کسی جانور کے گلے پر چھری نہ پھیرنی پڑے“۔



















































