جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پاک ترک سکولز و کالجز کامستقبل،واضح اعلان کردیاگیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2016 |

لاہو ر(این این آئی )پاک ترک سکول و کالج رائیونڈ روڈ کیمپس کے پرنسپل راجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاک ترک سکولوں اور کالجوں کی بندش کا کوئی امکان نہیں ، قوائد و ضوابط تبدیل کر کے اہم فیصلے کیے گئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں تمام تر برانچز پاکستانی انتظامیہ کے زیراہتمام چلائی جا رہی ہیں ،ہمارے کالج کی ایک ہی جماعت کے دوطلباء نے لاہوربورڈ میں دوسری اور تیسری پو زیشن حاصل کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پا ک ترک سکول و کالج رائیونڈ روڈ کیمپس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پاک ترک سکول مین کیمپس مراد یاقوت اور ترجمان اسلم بھٹی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ پرنسپل راجہ محمد آصف نے کہا کہ ہمارے کالج کے دو طلباء عثمان خالد نے 1100میں سے 1052نمبر حاصل کر کے پری انجینئرنگ میں اور اوورآل بھی لاہور بورڈ میں دوسری پو زیشن حاصل کی جبکہ توصیف الرحمن نے پری میڈیکل میں 1100میں سے 1041نمبرحاصل کر کے تیسری پو زیشن حاصل کی ، یہ دونوں پو زیشنیں ایک ہی جماعت کے دونوں طلباء نے حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک ترک سکول و کالج بہت سے قابل طلباء کو سالانہ وظائف دیتا ہے ، یہ دونوں طلباء بھی مکمل طورپر وظائف پر تعلیم حاصل کر رہے تھے اور انہیں تمام سہولیات بلامعاوضہ فراہم کی گئیں ۔راجہ محمد آصف نے کہا کہ حکومت پاکستان پر پا ک ترک سکولوں کو بند کروانے کے لئے دباؤ ضرور ڈالا گیا تھا لیکن اب ان سکولوں کی بندش کا کوئی امکان نہیں ہے ، کچھ قوانین وضوابط تبدیل کیے گئے ہیں جن کے مطابق اہم فیصلے لیے گئے ہیں ، پاک ترک سکول و کالجز کے تمام کیمپسز اس وقت مکمل طورپر پاکستانی انتظامیہ کے زیر اہتمام چلائے جا رہے ہیں ،یہاں پاک ترک سکولوں کی تمام برانچز میں پاکستانی پرنسپلز کو تعینات کر دیا گیا ہے ، پاک ترک سکولز میں پاکستان کانظام تعلیم ہی رائج ہے اور حکومت پاکستان کا منظورکردہ سلیبس ہی پڑھایا جا رہاہے ، موجودہ تمام اداروں کے مستقبل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاک ترک سکول وکالج ایک غیر منافع بخش تعلیمی ادارہ ہے جو کہ گزشتہ 21سال سے طلباء کو انتہائی اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر رہا ہے ، پاکستان میں اس کی 28برانچز ہیں جن میں 11ہزارسے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…