اسلام آباد (این این آئی) ایبٹ آباد میں جلا کر قتل کی گئی خاتون عنبرین کے قتل کیس میں گرفتار ملزمان نے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔گرفتار 14 ملزمان کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سائلان عنبرین کیس میں ناکردہ گناہ کی پاداش میں بے قصور جیل میں بند ہیں اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں جبکہ پولیس نے گرفتار افراد پر شدید تشدد کیا ہے تاہم تمام تر سختیوں کے باوجود ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ گرفتار ملزمان نے عنبرین کو جلا کر قتل کیا ہو۔ درخواست میں کہا گیا کہ عنبرین کو گھاس پھوس اور گاڑیوں میں جلانے کی باتیں درست نہیں اور یہ کیسے ہو سکتاہے کہ سائلان اپنی گاڑیوں کو جلا ڈالیں۔درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے، گرفتار ملزمان کی بے گناہی اور حقائق سامنے لانے کیلئے عنبرین قتل کیس کی عدالتی انکوائری کے احکامات جاری کئے جائیں اور گرفتار افراد پر پولیس تشدد کا نوٹس لیا جائے تاکہ مقدمہ کے تمام فریقین کو انصاف مل سکے۔ یادرہے کہ عنبرین قتل کیس میں 14 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سعید احمد ، پرویز زمان، سراج احمد ، منیر خالق، افضل، نصیرگل زمان ، شبیر احمد، پرویز ، عمر زیب، جاوید اختر گل زرین ، صفدر اور گل زمان ولد عبدالستار شامل ہیں۔ اس مقدمہ میں دفعہ 436 ٗ302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 لگائی گئی