منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

طاقت اور صحت کا بھر پور خزانہ۔۔۔ ماہرین نے زبردست علاج بتا دیا

datetime 18  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباعد (مانیٹرنگ ڈیسک)اللہ تعالیٰ نے ہر موسم کو بڑی حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور پھر ہر موسم کے مطابق ہمارے لیے نعمتیں بھی پیدا کی ہیں، تاکہ ہم موسموں کی شدت کے مضراثرات سے محفوظ رہیں اور ان کے مثبت اثرات سے لطف اندوز ہوسکیں۔ موسم گرما ہویاسرما، ہر موسم کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پھل اور سبزیاں پیدا کیں ہیں، جو ہمیں قوت کے ساتھ ساتھ ذائقہ اور صحت بھی فراہم کرتی ہیں۔
موسم گرما میں یوں تو بے شمار پھل اور سبزیاں ہمارے لیے دستیاب ہیں، لیکن شدید گرمی کے دنوں میں ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ ہم زیادہ ٹھنڈی اشیاکھائیں اور پییں۔ ان اشیا میں گنا بھی ایک بڑی نعمت خداوندی ہے۔ چوں کہ گرمی کے دنوں میں ہر شخص گرمی کے مضراثرات سے ضرورمتاثر ہوتا ہے، ایسے میں گنے کا ٹھنڈا رس آب حیات سے کم نہیں ہوتا۔
گنے کا رس نہ صرف ہمارے جسم میں ٹھنڈک کا احساس پیداکرتا ہے، بلکہ یہ توانائی بھی بخشتا ہے۔ اس میں حیاتین الف، ب اور ج (وٹامنز اے، بی اورسی) کافی مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔ ہر سوگرام گنے کے رس میں 220 حرارے ہوتے ہیں۔
یرقان کے مرض میں گنے کا رس نہایت مفید ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ یہ نہ صرف مرض کو ختم کرتا ہے، بلکہ مریض میں بڑھتی ہوئی کمزوری کو بھی دور کرتا ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ گنے میں فولاد اور کیلسیئم کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔
گناہ نہ صرف پیاس کی شدت کوکم کرتا ہے، بلکہ دل ودماغ کو سکون بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گنا دانتوں سے چھیل کرکھانے سے دانتوں اور مسوڑوں کی اچھی طرح ورزش بھی ہوجاتی ہے اور یہ ورزش دانتوں کے لیے بے حدضروری ہے۔ اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دیہات میں شہروں کی نسبت دانتوں امراض بہت کم ہوتے ہیں۔
گنے کا رس صرف یرقان کے مریضوں کے لیے ہی مفید نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے ہاضمے کا عمل درست رکھنے بھوک بڑھانے اور بیماری کے بعد قوت بحال کرنے میں بے حدمدد گار ثابت ہوتا ہے۔
محنت طلب کام کرنے کے بعد گنے کا ایک گلاس رس پینے سے ساری جسمانی تھکن دور ہوجاتی ہے۔ پیٹ میں اپھار، قبض، ریاح یہاں تک کہ معدے کے زخم دور کرنے میں بھی گنے کا رس مفید قرار دیاگیا ہے۔ چوں کہ گنے کا رس زیادہ پینے سے گردوں کی صفائی ہوجاتی ہے، اس لیے یہ پتھری کے مرض کو دورکرنے میں بھی مفید ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…