اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سی پیک آپٹک فائبر کیبل بچھانے کامنصوبہ بھی تنازعے کا شکار،ٹھیکہ دینے پر سوال اُٹھ گئے

datetime 24  جولائی  2016 |

گلگت (آئی این پی) سی پیک آپٹک فائبر کیبل بچھانے کے منصوبے سے گلگت بلتستان کی واحد کمپنی کو خارج کر دیا گیا جبکہ سیل مور نامی کمپنی کو ٹھیکہ سے خارج کرنے کے بعد دوبارہ شامل کر کے 5 مختلف کمپنیوں کو کیبل بچھانے کا کام دیدیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کی واحد کمپنی کو کیبل بچھانے کاکام نہ ملنے کے بعد یہاں کے عوام کیلئے روزگار کے دروازے اور معاشی ترقی کے مواقع ختم ہو گئے ہیں۔ معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان اور چین کو آپٹک فائبر کیبل کے ذریعے لنک کرنے کیلئے راولپنڈی سے خنجراب تک کیبل بچھانے کا ٹھیکہ 5 مختلف کمپنیوں کو دیدیا گیا ہے جبکہ اس ٹھیکے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور 10کلو میٹر علاقے میں آزمائشی بنیادوں پر کیبل بچھانے کا کام بروقت اور معیار کے مطابق کرنے والی گلگت بلتستان کی واحد کمپنی برینو ریسویٹس کو گھی سے بال کی طرح نکال باہر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیل مور نامی کمپنی کو پہلے خارج کرنے کے بعد دوبارہ کیبل بچھانے کا کام دیا گیا ہے ۔ چینی کمپنی ہواوے نے گلگت بلتستان کی واحد کمپنی کو ٹھیکہ نہ دے کر یہاں کے عوام کو اس میگا منصوبے کے ثمرات سے محروم کر دیا ہے۔ سی پیک منصوبے کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام پہلے ہی شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں او راس منصوبے کے ثمرات نہ ملنے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں ایسے میں علاقے کی واحد کمپنی کو پری ہونے کے باوجود ٹھیکہ نہ دینے سے علاقے کے عوام میں احساس محرومی میں مزید اضافہ ہو گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جن 5 کمپنیوں کو آپٹک فائبر کیبل بچھانے کاکام دیا گیا ہے ان میں سے کسی بھی کمپنی کو دشوار گزار اور پہاڑی علاقے میں آپٹک فائبر کیبل بچھانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ برینو ایسویٹس نے 10 کلو میٹر کیبل ناران کاغان کے دشوار اور پہاڑی علاقے میں بروقت اور معیاری انداز میں بچھائی اور اپنی اہلیت کو عملی بنیادوں پر ثابت کیا لیکن ان کو ٹھیکے سے محروم کر دیا گیا۔ مبینہ طور پر چینی کمپنی ے تگڑی سفارش اور مٹھی گرم کرنے والی کمپنیوں کو ٹھیکے سے نوازا ہے جس کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان آپٹک فائبر کیبل بچھانے کا منصوبہ اپنے آغاز سے قبل ہی متنازعہ بن گیا ہے۔ خنجراب سے راولپنڈی تک 800 کلو میٹر کیبل بچھائی جائے گی ۔ اور 18 ماہ میں یہ منصوبہ مکمل کیاجائیگا۔ مجموعی طور پر اس منصوبے پر 43 ملین امریکی ڈالر لاگت آئے گی۔ ۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…