منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

راناثناء اللہ نے تحریک انصاف ،قندیل بلوچ اور مفتی عبدالقوی کا ’’حق ‘‘تسلیم کرلیا

datetime 24  جون‬‮  2016 |

لاہور (این این آئی )صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے لیکن پھر انہیں فیصلے کو بھی قبول کرنا چاہیے ،بجٹ کو لفظوں کا گورکھ دھندہ قرار دینا اپو زیشن کی روایت بن چکی ہے لیکن آئندہ مالی سال کا بجٹ ترقی اور عوامی شمولیت کی نئی جہت کو لے کر آئے گا، قندیل بلوچ اور مفتی عبدالقوی دونوں حق پر ہیں ، انہیں چاہیے کہ اب حق کر لیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پنجاب کے بجٹ میں مختلف طبقات ، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کو فوکس کیا گیا ہے ، یہ بجٹ ترقی اور عوامی شمولیت کی نئی جہت کو لے کر آئے گا، تمام جا ری ترقیاتی منصوبے مکمل ہو ہو ں گے ، یہ اپو زیشن کا روایت بن چکی ہے کہ وہ حکومت کے ہر بجٹ کو لفظوں کا گورکھ دھندہ قرار دیتی ہے ، بجٹ میں تمام اعدادوشمار موجودد ہیں اگر ا س میں کچھ جھوٹ ہے تو وہ ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن آج تک اپوزیشن ایک لفظ بھی جھوٹا ثابت نہیں کر سکی ۔ انہوں نے کہا کہ مو جو دہ حکومت نے پسے ہو ئے افراد کے بہترمستقبل کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ہے جس میں بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنا بھی شامل ہے ، اس میں ان کے والدین کو اعزازی مشاہرہ بھی دیا جا رہا ہے ، اس سے پہلے کسی کو توفیق تک نہیں ہوئی ، اپو زیشن صرف حکومت مخالف نعرے لگانا جانتی ہے ۔وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ریفرنس دائر کرنا ہر کسی کا حق ہے ، اگر پی ٹی آئی قانون کا راستہ اختیار کر تے ہوئے ریفرنس دائر کرنا چاہتی ہے تو یہ ان کا حق ہے ، لیکن وہ یہ کام کرنے جا رہی ہے تو پھر اسے قانون اور آئین کا احترام بھی کرنا چاہیے ، افراتفری اور انتشار سے اجتناب کرنا چاہیے ، پاکستان مسلم لیگ (ن) اس ریفرنس کا مکمل طورپر مقابلہ کر ے گی لیکن پی ٹی آئی کو چاہیے کہ جو بھی فیصلہ آئے اسے تسلیم کرے ، فیصلہ ان کے خلاف آجائے تو یہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں ، پھر یہ عدلیہ کو اور اس سارے نظام کو ہی جھوٹاقرار دینے لگ جا تے ہیں ، پی ٹی آئی کو یہ رویہ ترک کر دینا چاہیے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ اور مفتی عبدالقوی دونوں ہی حق پر ہیں اور اب ان کو حق کر لینا چاہیے ، وہ علماء ونگ کے صدر رہے ہیں اور قندیل بلوچ نے ان کو اسی لیے اپروچ کیا تھا تاکہ وہ قندیل بلوچ کی پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ بندھی ہوئی امید پو ری کروا سکیں ، اور ان کا راستہ بنا سکیں ۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ رائل پام زمین پر قبضے کے معاملے کی تفصیلات کا مجھے علم نہیں لیکن اس معاملے میں حکومت پنجاب لیگل پوزیشن پر محکمہ ریلوے کے ساتھ کھڑی ہے اور عدالتی حکم جو بھی ہو گا اس کی پابندی ہو گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…