اسلام آباد(نیوزڈیسک)سرکار دو عالم ‘آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہم سب کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قو ل‘ ہر فعل اور ہر عادت میں حکمت کا بحر بیکراں موجود ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عادات جن کا تعلق اگرچہ براہ راست شرعی احکامات سے نہیں لیکن ان کی اتباع ایک تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کمال محبت کااظہار ہونے کی وجہ سے مؤجب ثواب ہے اور دوسرے دنیاوی فیوض وبرکات کے حصول کا ذریعہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا کی اتباع کا اہتمام فرماتے تھے۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مختلف طریقوں سے کھجور استعمال فرمایا کرتے تھے ‘کبھی کھجوریں ہی تناول فرمایا کرتے‘ کبھی ان کے ساتھ مکھن ملا کر استعمال فرماتے‘ کبھی ان کو دودھ میں ملا کر تناول فرماتے اورکبھی ککڑی خربوزے یا تربوز کے ساتھ ملا کرکھاتے تھے اور ساتھ ہی اس کی حکمت بیان فرماتے تھے کہ اس طرح کھجور کی گرمی کو ان مذکورہ چیزوں کی ٹھنڈک کے ذریعے معتدل کیا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچی کھجور تناول نہیں فرماتے تھے
اللہ تعالیٰ نے ہر علاقے کے باشندوں کے مزاج کے موافق پھل پیدا فرمائے ہیں چنانچہ ان علاقائی پھلوں کا انسانی صحت میں بہت دخل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے علاقے کے اعتبار سے کھجور کا باکثرت استعمال فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی کھجور کے لئے برکت کی دعا بھی فرمائی جس کے سبب وہاں ہمیشہ عمدہ اور بکثرت کھجور پیدا ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عجوہ کھجور سب سے زیادہ پسند تھی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا پھل قرار دیا۔ حضرت عامر بن سعد کی ایک روایت کے مطابق جو شخص صبح کو سات عجوہ کھجور کھا لے گا اس دن اس پر کسی جادو یا زہر کا اثر نہیں ہوگا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں کھجور نہ ہواس گھر والے بھوکے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی نومولود بچہ پیش کیا جاتا تو اس کے منہ میں گھٹی کے طورپر کھجور چبا کر



















































