جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت عیسیٰ ؑ نے اللہ سے حضور ﷺ کو جلد مبعوث فرمانے کی درخواست کیوں کی؟انتہائی ایمان افروز تحریر

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضوؐر کی یہ خوبی کئی بار بیان کی کہ آپؐ ان تمام امور کو کھول کر بیان فرما دیں گے جن کے بارے میں انبیاء سابق خاموش رہے یا مبہم اشارات سے آگے نہ بڑھے۔ یہی وہ وصف ہے جس کو قرآن پاک نے رسول مبین، نذیر مبین اور نورمبین کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اسی موضوع پر انجیل برناباس کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے۔
یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ’’خدا کا یہ قول کہ وہ لذت اٹھائیں گے، کیا فائدہ دے گا؟ حق یہ ہے کہ اللہ صاف صاف کہہ رہا ہے مگر جنت میں قیمتی بہنے والی شے کی چار نہروں اور بے حد افراط سے پھلوں کے ہونے کا کیا فائدہ ہے؟ اس لئے کہ یہ یقین ہے کہ اللہ نہیں کھاتا اور فرشتے نہیں کھاتے اور نفس نہیں کھاتا اور حِس نہیں کھاتی بلکہ بدن (ہی کھاتا ہے) جو کہ یہ ہمارا جسم ہے پس جنت کی بزرگی یہی جسم کا غذا کھانا ہے۔ رہا نفس اورحِس، پس ان دونوں کیلئے اللہ سے اور فرشتوں سے باتیں کرنا اور مبارک رووں سے۔ اور رہی یہ بزرگی۔ تو اس کو عنقریب رسول اللہ روشن ترین بیان کے ساتھ واضح کر دے گا جو کہ ہر مخلوق سے زیادہ چیزوں کا جاننے والا ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے سب چیزوں کو اسی کی محبت میں پیدا کیا ہے۔ (۱۷۶:۱-۷)
اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو دعائیں انجیل برناباس میں منقول ہیں ان میں آپؑ نے توحید باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ رسالت محمدیؐ پر ایمان کا اقرار کیا بلکہ اللہ سے درخواست کی کہ رسول رحمتؐ کو جلد مبعوث فرمائے تاکہ بنی نوع انسان جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر ہدایت کے نور سے فیضیاب ہو سکے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امت محمدیؐ
اے رب بخشش والے اور رحمت میں غنی! اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔ اور فقط مجھ کو ہی نہیں بلکہ ان سب کو بھی جن کو تو نے مجھے عطا فرمایا ہے ساتھ ان تمام لوگوں کے جو آگے چل کر ان کی ہدایت کے واسطے سے ایمان لائیں گے۔ اور اے رب! اس بات کو اپنی ذات کے لئے کر تاکہ اے رب! شیطان تیرے آگے فخر نہ کرے۔ اے وہ پروردگار، معبود! جو اپنی عنایت سے تمام ضروریات اپنی قوم اسرائیل کو پیش کرتا ہے، زمین کے ان سب قبائل کو یاد کر جن سے تو نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کو اپنے رسول کے ذریعے برکت دے گا جس کے سبب سے تو نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ دنیا پر رحم کر اور اپنے رسول کے بھیجنے میں جلدی کر تاکہ وہ رسول تیرے دشمن شیطان سے اس کی مملکت کو چھین لے‘‘۔ اور یسوع نے اس (دعا) سے فارغ ہو کر تین مرتبہ کہا ’’اے رکب عظیم و رحیم ! چاہئے کہ ایسا ہی ہو‘‘ تب سب لوگوں نے روتے ہوئے جواب میں کہا ’’چاہیئے کہ یہی ہو، چاہیئے کہ یہی ہو، سوائے یہودا کے، کیونکہ وہ کسی چیز پر ایمان نہیں لایا (۲۱۲:۱۴-۲۰)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…