پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

زندہ جلا ئی گئی لڑکی کا منصو بہ کہا ں اور کس نے بنا یا,  ایسا افسو سنا ک واقع کہ ہر کسی کی آنکھ سے آنسو نکل آئی 

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

آیبٹ آباد (نیوز ڈیسک ) پسند کی شادی کر نے پر صائمہ کو قتل کر دیا جبکہ عنبیرین کو گلا دبا کر ما رااور پھر جلا دیا گیا ایبٹ آباد میں لڑکی کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلانے والے 15 ملزموں کو حراست میں لے لیا گیا ہے ، عنبرین کو قتل کرنے کا فیصلہ جرگے میں اس لئے کیا گیا تھا کہ اس نے ایک لڑکی صائمہ کی پسند کی شادی کرنے میں مدد کی تھی۔ جرگے نے اپنے فیصلے میں عنبرین کو مجرم قرار دیتے ہوئے پہلے اس کا گلا دبا کر اس کی جان لینے کا حکم دیا اور اس کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔ پولیس نے کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے قتل کے الزام میں 15 افراد کو حراست میں لے کر ان کیخلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ عنبرین کی لاش کو رات گئے ایک کیری ڈبہ میں بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی۔ کچھ دن قبل نویں جماعت کی طالبہ کو زندہ جلائے جانے کاواقعہ نیا رْخ اختیارکرگیا،حراست میں لیے جانے والوں میں طالبہ کی والدہ اور چند دیگر رشتہ دار شامل ہیں،ایبٹ آباد میں پانچ دن قبل نویں جماعت کی طالبہ کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ میں شک کی بنیاد پر 25 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔تھانہ ڈونگا گلی کے ڈی ایس پی جمیل قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اصل ملزمان تک پہنچنے کی بھر پور کوششیں کر رہی ہے اور اس ضمن میں تین الگ الگ تحقیقاتی ٹیمیں بنائی گئیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ابھی تک پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران 25 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والوں میں طالبہ کی والدہ اور چند دیگر رشتہ دار شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ کیس کے کچھ شواہد فرانزک لیبارٹری بھی بھجوائے گئے ہیں جس سے توقع ہے کہ بہت جلد اصل قاتلوں کا کھوج لگا لیا جائیگا۔ ڈی ایس پی کے مطابق چونکہ یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا اسی وجہ سے پولیس کو اصل ملزمان تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہے۔یاد رہے کہ جمعے کی صبح نامعلوم ملزمان نے ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقے ڈونگا گلی میں نویں جماعت کی طالبہ عنبرین کو وین میں باندھ کر اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی تھی جس سے وہ زندہ جل گئی تھیں۔میڈیا ذرائع کے مطابق اس سارے سانحہ کے اصل ملزمان کو منظر عام پر لانے میں ڈی پی او ایبٹ آبادخرم رشید نے اہم کردار ادا کیا۔ اور اس پورے سانحے کی غیر جانبدار تحقیقات کر کے اپنے فرائض کو بخوبی سرانجام دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…