پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

پختونخوا حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریاں؟مولانا فضل الرحمان حقیقت سامنے لے آئے

datetime 4  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ پاناما لیکس کے ٹی او آرز بنانے کا اختیار وزیر اعظم کو نہیں تو اپوزیشن کو کیسے ہے؟ ٗعمران خان کی خود آف شور کمپنیاں ہیں ٗپہلے پی ٹی آئی چیف کو استعفیٰ دینا چاہیے ٗ پختونخوا حکومت کا تختہ الٹنے لی کوئی تجویز زیر غور نہیں ٗپیپلز پارٹی کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اگر ٹی او آرز بنانے کا اختیار وزیراعظم کو نہیں ہے تو پھر اپوزیشن کو کس طرح ہے جبکہ اپوزیشن کے اپنے ٹی او آرز میں تضاد ہے انہوں نے کہا کہ ٹی او آرز چیف جسٹس پر چھوڑ دیئے جائیں تحقیقات بھی وہ کریں اور ٹی او آرز بھی وہ بنائیں ،پی ٹی آئی پانامہ لیکس پر شوسر مچا رہی ہے حالانکہ اس کے صوبے خیبر پختونخواہ سے خیبر لیکس آرہی ہیں پھر اگر آف شور کمپنیوں کی وجہ سے وزیراعظم سے عمران خان استعفیٰ مانگ رہے ہیں تو پھر ان کے اپنے اور ان کے ساتھیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس بھی ہیں، آف شور کمپنیاں ہیں انہیں پہلے خود مستعفی ہوجانا چاہیے، ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے کی تجویز ضرور دی تھی لیکن صوبائی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، ن لیگ نے اس وقت کہاتھا کہ انہیں صوبے میں حکومت بنانے دی جائے وہ خود ایکسپوز ہوجائینگے اب وہ تو ایکسپوز ہوگئے لیکن عوام کا نقصان کردیا، پیپلزپارٹی بارے سوال پر انکا کہنا تھا کہ پی پی پنجاب اور سندھ کی سوچ الگ ہے پنجاب میں خدشہ ہے کہ اگر وہ نرم پڑ گئے تو عوام سمجھیں گے کہ یہ پی ٹی آئی حقیقی اپوزیشن ہے لیکن یاد رکھیں کہ اگر شروعات عمران خان نے کیں تو پی پی لاکھ آواز اٹھائے تاثر یہ جائیگا کہ وہ اپنی ساکھ بچانے کیلئے ان کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں، تحریک انصاف کے فیصل آباد جلسہ کی منسوخی کونسا عمران خان کا پہلا یوٹرن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…