منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کھانے کے بعد پانی پینا کیسا ہے؟ ماہرین کا ایسا انکشاف جو آپ کو ضرور پڑھنا چاہئیے

datetime 21  اگست‬‮  2016 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)مرچوں اور مصالحہ دار غذائیں کھانے سے اکثر زبان پر کچھ لمحوں کے لیے کاٹ اور تکلیف محسوس ہوتی ہے اور لوگ فوری طور پر پانی پیتے ہیں لیکن اب ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس طرح پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے تاہم دودھ پینے سے اس تکلیف کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔امریکی طبی ماہرین کی جانب سے یو ٹیوب پر جاری ایک ویڈیو میں چٹ پٹی اور مصالحہ دار غذائیں کھانے سے زبان پر اس کے اثرات دکھائے گئے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان اشیا کے کھانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ زبان میں جلن ہورہی ہو اور اس جلن کا سبب کیمیکل مرکب کیسیسن بنتا ہے جو کہ زیادہ تر مرچوں میں پایا جاتا ہے اس لیے مصالحہ دار اشیا کے اجزا درد کا باعث بننے والے ریسیپٹرز کو زبان پر چپکا دیتے ہیں جو جلن پیدا کرتے ہیں۔ امریکی کیمیکل سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کیسیسن بے رنگ اور بغیر خوشبو والا مرکب ہے جو بڑی مقدار میں مرچوں کے ٹشوز کے گرد ارتکاز کرتے ہیں اور جو منہ میں موجود گرم مرکب جیسے گرم پانی اور ایسڈیک عناصر کو سامنے ملاتی ہے جس سے زبان کے ٹشوز کو تباہ کرتی ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب درد کے ریسپٹرز دماغ کو نیورول سگنلز بھیجتے ہیں تو وہ زبان پر جلن کے باعث آنکھوں میں جلن یا پھر ناک کے بہنے کا باعث بن جاتے ہیں اور انہی کی وجہ سے درد کا سبب بننے والا مرکب باہر نکلتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق جب کوئی زیادہ تیز مرچ کو کھانے کے لیے دانتوں سے کاٹتا ہے تو اس میں موجود ایک ہزار اسکویل کیپسیسن کے ساتھ مل کر زبان پر کسی آگ کی طرح جلن پیدا کردیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کیفیت میں دودھ پینا چاہیے جو جلن کے اثرات کو کم کردیتا ہے یعنی کیپسیسن میں موجود نان پولر مالیکول دودھ میں موجود نان پولر مرکب میں محلول ہوجاتا ہے تاہم اگر پانی پیا جائے تو وہ اپنی پولر خصوصیت کی وجہ سے کیپسیسن کو پورے منہ میں پھیلا دیتا ہے جو تکلیف کو بڑھا دیتا ہے جب کہ دودھ اپنی نان پولر خصوصیات کے باعث اپنے اندر کسین نامی پروٹین رکھتا ہے جو کیپسیسن مالیکیول کو کشش کرکے اسے منہ میں موجود ریسیپٹر سے دور کرکے اسے تحلیل کردیتے ہیں۔دوسری جانب ڈاکٹرز نے مصالحہ دار اشیا کھانے اور اس تکلیف کو سہنے والوں کو اچھی خبر دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایسے لوگوں میں برداشت قوت بھی تیزی سے بڑھتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…