پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

وزیراعظم کو جیل بھیجنے والوں کو کہاں پناہ ملے گی؟مولانا فضل الرحمان نے معنی خیز مثال دیدی

datetime 3  مئی‬‮  2016 |

بنوں(نیوزڈیسک) جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ چوہوں سے ڈرنے والے پنجاب کے شیروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ٗوزیراعظم کو جیل بھیجنے والوں کو کہیں اور نہیں سسرال یا تل ابیب میں پناہ ملے گی۔ بنوں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنے والے خود چوہوں سے ڈرتے ہیں اوروہ پنجاب کے شیروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، آف شور کمپنیاں توعمران خان کی بھی ہیں اگر احتساب ہوا تو پھر سب کا ہوگا اور اگر وزیر اعظم نے استعفیٰ دیا تو وہ اپنے گھر یا جیل جائیں گے تاہم عمران خان کو پورے ملک میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی انہیں اپنے سسرال یا تل ابیب میں پناہ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختون خوا میں مینڈیٹ کا دعویٰ کرنے والے ہی صوبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور صوبے کو تاریکیوں کی جانب دھکیل رہے ہیں، ایسے لوگ ترقی کے نام سے نابلد ہیں لیکن مسند اقتدار پر ہونے کے باعث ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب انتخابات ہوئے تو ایک ذمہ دار وفد نے مجھے کہا کہ پختونوں میں تہذیب کی جڑیں بہت گہری ہیں اوران کو اکھاڑنے کیلئے عمران خان سے بہتر شخص کوئی اور نہیں مل سکتا، عمران خان کے جلسوں میں اخلاقی اقدار کو پامال کیا جاتا ہے اور پختونوں کی عزت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے جب کہ خیبر پختونخوا کی ذمہ داری جن کے سپرد کی تھی انہوں نے صوبے کو دوبارہ جہالت کی تاریکیوں کی طرف دھکیل دیا اور غریبوں کے پیسے کو برباد کردیا ہے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ٗ میں ان سے کہتا ہوں کہ نشے میں دھت اور سوئے ہوئے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، ہمیں وزیراعظم پرمکمل اعتماد ہے ان کے پسماندہ علاقے میں آنے سے ترقی کا آغاز ہوگیا ہے اور وزیراعظم کی قیادت میں ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…