منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

آف شور کمپنیاں توعمران خان کی بھی ہیں بڑی شخصیت نے بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 3  مئی‬‮  2016 |

بنوں(نیوز ڈیسک ) جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ چوہوں سے ڈرنے والے پنجاب کے شیروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ٗوزیراعظم کو جیل بھیجنے والوں کو کہیں اور نہیں سسرال یا تل ابیب میں پناہ ملے گی۔ بنوں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنے والے خود چوہوں سے ڈرتے ہیں اوروہ پنجاب کے شیروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، آف شور کمپنیاں توعمران خان کی بھی ہیں اگر احتساب ہوا تو پھر سب کا ہوگا اور اگر وزیر اعظم نے استعفیٰ دیا تو وہ اپنے گھر یا جیل جائیں گے تاہم عمران خان کو پورے ملک میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی انہیں اپنے سسرال یا تل ابیب میں پناہ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختون خوا میں مینڈیٹ کا دعویٰ کرنے والے ہی صوبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور صوبے کو تاریکیوں کی جانب دھکیل رہے ہیں، ایسے لوگ ترقی کے نام سے نابلد ہیں لیکن مسند اقتدار پر ہونے کے باعث ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب انتخابات ہوئے تو ایک ذمہ دار وفد نے مجھے کہا کہ پختونوں میں تہذیب کی جڑیں بہت گہری ہیں اوران کو اکھاڑنے کیلئے عمران خان سے بہتر شخص کوئی اور نہیں مل سکتا، عمران خان کے جلسوں میں اخلاقی اقدار کو پامال کیا جاتا ہے اور پختونوں کی عزت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے جب کہ خیبر پختونخوا کی ذمہ داری جن کے سپرد کی تھی انہوں نے صوبے کو دوبارہ جہالت کی تاریکیوں کی طرف دھکیل دیا اور غریبوں کے پیسے کو برباد کردیا ہے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ٗ میں ان سے کہتا ہوں کہ نشے میں دھت اور سوئے ہوئے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، ہمیں وزیراعظم پرمکمل اعتماد ہے ان کے پسماندہ علاقے میں آنے سے ترقی کا آغاز ہوگیا ہے اور وزیراعظم کی قیادت میں ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…