منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کون لوٹ مارکررہا ہے ؟تحریک انصاف کے رہنما نے بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 28  اپریل‬‮  2016 |

نواب شاہ(نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنماء شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ میں شمار کیا جانے والا چھوٹا سا طبقہ ملک میں لوٹ مار مچائے بیٹھا جبکہ غریب اور متوسط طبقہ اربوں روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے اس کے باجود بھی اس طبقہ کو سکون میسر نہیں ہے اور نہ ہی بنیادی سہولتیں میسر ہیں ،صحت ،تعلیم ، خوراک جیسی سہولتیں تک عوام کو میسر نہیں ہیں ، اربوں روپے ٹیکس ادا کرنے والی عوام کفن کے ایک گز کپڑے پر ٹیکس ادا کرتی ہے پھر بھی انہیں غربت اور بے روزگاری کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نواب شاہ پریس کلب میں میڈیا اور کرپشن بچاؤ کارواں مہم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم جتنا ٹیکس ادا کرتی ہے اس کے مطابق خوشحالی ان کا مقدر ہونا چاہیے مگر لٹیرے حکمران قومی خزانے کو باپ کی جاگیر سمجھ کر اس کو بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ تھر میں بھوک سے اموات اس ملک کے حکمرانوں کی منہ پر زور دار تماچہ ہے لیکن ان کے تو کان پر جوں تک نہیں رینگتی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی تب ہی ممکن ہے جب لوٹا ہوا خزانہ ملکی خزانے میں شامل ہوگا اور پائی پائی کا حسا ب لیا جائے گا انہوں نے کہا کہ کراچی سے لیکر خیبر تک پاکستان عوام ملک میں کرپشن کے خاتمے کا جذبہ رکھتی ہے مگر بد قسمتی سے کوئی ان کے جذبے کی قدر کرنے والا نہیں ہے پاکستان تحریک انصاف نے قو م میں کرپشن سے پاک پاکستان کا جذبہ بیدار کیا ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو مایوسی کے اندھیر ے سے نکالنے کے لئے تحریک انصاف اپنا قابل معترف کردار ادا کر یگی شاہ دمحمود قریشی نے مزید کہا کہ ملک کی حالت یہ ہے کہ بین الاقوامی قرضوں کو سود ادا کرنے کے لئے بھی قرض لینا پڑ رہا ہے ۔قوم کو معاشی طور پر تباہ کر کے نسل کشی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور چند ایک طبقات ملک کے نظام پر اثرانداز رہنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے غربت بے روزگار ی اور مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ، عوام کو کوئی پرسان حال نہیں ہے ،ہم ملک کو بچانے نکلے ہیں او ر پوری قوم ہمارے ساتھ ہے انہوں نے کہا کہ چند خاندانوں نے ملک کا خزانہ بیرون ملک منتقل کر کے قوم کودیوالیہ بنا دیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ سوئی ہوئی قوم کو ان اشرافیہ سے لوٹی ہوئی ملکی دولت واپس دلانے کے لئے جگایا جائے ، اس موقعہ حلیم عادل شیخ اور گل محمد رند بھی موجود تھے قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء شاہ محمود قریشی نے نواب شاہ میں پر ہجوم کاروان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں میں ملک میں جمہوری روایتوں کو تہہ و بالا کر کے کرپشن کی تاریخ رقم کی ہے ملک میں پائیدار جمہوریت ت ہی پنپ سکتی ہے جب تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہوجاتا ، انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس سے ثابت ہو چکا ہے کہ ملک کے حکمرانوں کرپشن کا بد ترین ریکارڈ توڑ دیا ہے شیراز چوک پر عوامی ہجوم سے خطا ب کرتے ہوئے شاہ محمو د قریشی نے مزید کہا کہ ماضی کی حکمرانوں نے کرپشن کی ایسی راہیں کھولیں کہ آج کے حکمرانوں ان راہوں سے مستفیض ہورہے ہیں ، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے عوام میں کرپشن کے خلاف جذبہ دیکھا ہے تحریک انصاف کرپشن سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھ کر تبدیلی کی راہیں ہموار کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے اثرات سندھ میں نمایاں نظر آئیں گے ۔دوسری جانب ضلع شہید بے نظیر آباد سے وابستہ پی ٹی آئی کے 20 سال پرانے نظریاتی کارکنوں کو کرپشن بچاؤ ہم کارواں ایکسپریس سے محروم رکھا گیا پی ٹی آئی کارواں نواب شاہ پہنچے پرمقامی پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے مذکور ہ کرپشن بچاؤ کارواں کا بائیکاٹ کیااحتجاج کرنے والوں میں گل محمد کیریو،خالد حسین انٹر، سجاد خاصخیلی ودیگر شامل تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…